امریکہ امداد نہ دے پاکستان سے متعلق روش بدلے: حسین حقانی

امریکہ امداد نہ دے پاکستان سے متعلق روش بدلے: حسین حقانی

واشنگٹن(اے پی اے) سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ امریکہ امداد نہ دے پاکستان سے متعلق اپنی روش بدلے، مجھے یقین نہیں کہ کسی اعلیٰ عہدیدار نے اسامہ کو پاکستان میں چھپنے میں مدد دی، آج تک پاکستانی عوام کو درست تاریخ نہیں بتائی جاتی، وہ حقیقت بیان کرکے پاکستان کی خدمت کرتے رہیں گے۔ بوسٹن یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستانی امریکہ پیچیدہ تعلقات کی وجوہات کے بارے حسین حقانی نے کہا یہ تعلقات ابتدا سے فریب کا شکار رہے ہیں، امریکہ کے غلط اندازوں کے تین نتائج نکلے، پہلا یہ کہ پاکستان بھارت تنازعہ طول پکڑ گیا، پاکستان کا امریکہ پر انحصار بڑھتا گیا اور اصلاحات کا عمل جمود کا شکار ہو گیا، امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو فوجی امداد دے گا تو وہ خود کو محفوظ تصور کرکے بھارت سے مقابلہ چھوڑ دے گا، جبکہ پاکستان کی سوچ یہ ہے کہ امریکی امداد اور اسلحہ کی بدولت وہ بھارت کی فوجی طاقت کے مدمقابل آجائے گا، امریکہ چالیس ارب ڈالر کی امداد کے بعد بھی پاکستان کی پالیسیوں میں تبدیلی لاسکا ہے نہ آئندہ ایسا ہوگا، کون سا امریکی صدر پاکستان کو بہتر سمجھ سکا۔ حسین حقانی نے کہا کہ ہر ایک کو اپنا دور اقتدار ختم ہوتے وقت غلطیوں کا احساس ہوا، صدر بش نے بھی اس کا اعتراف کیا کہ انہوں نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف پر ضرورت سے زیادہ اعتبار کیا، اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق انہوں نے کہا انہیں ذاتی طور پر یقین نہیں کہ کوئی اعلیٰ عہدیدار اسامہ کو پناہ دینے میں ملوث ہے، نچلی سطح پر کچھ لوگ ملوث ہیں تو پاکستان کو انہیں سامنے لانا ہوگا، ورنہ دنیا شبہات میں مبتلا رہے گی، قوم کو حقائق سے آگاہ کرنے کے سوال پر حسین حقانی کا کہنا تھاکہ مقبول سیاسی رہنماؤں نے سوال اٹھائے کہ بھارت کو مستقل دشمن سمجھنے کا کیا جواز ہے، فوج پر اتنے وسائل صرف ہوں تو ملک معاشی ترقی کیسے کرے گا، لیکن ایسی آوازوں کو یا تو دبا دیا گیا یا پھر انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ سابق سفیر نے کہا کہ وہ پاکستان آنا چاہتے ہیں لیکن سکیورٹی مسائل رکاوٹ ہیں۔