وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بگٹی قبیلے کے دوسوسے زائد افراد کو پناہ دے رکھی ہے۔

وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بگٹی قبیلے کے دوسوسے زائد افراد کو پناہ دے رکھی ہے۔

وکی لیکس نے افغان صدر کی دوہزارسات میں جنوبی ایشیا کے لیے امریکہ کے سابق ایلچی رچرڈ باؤچر سے ملاقات کا احوال جاری کردیا ہے۔ ویب سائیٹ کے مطابق ملاقات میں حامد کرزئی نے بتایا تھا کہ بگٹی قبیلے کے دوسو سے زائد افراد اپنے بیٹوں کے ہمراہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئےہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بگٹی قبیلے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس لیے انہیں پاکستان کے حوالے کرنا مشکل ہے۔ رچرڈ باؤچر نے افغان صدر پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستان کو بتائیں کہ بگٹی دہشتگرد نہیں اورنہ ہی بھارت کا اس میں کوئی کردار ہے۔ رچرڈ باؤچر نے حامد کرزئی سے کہا تھا کہ وہ ڈیل کے تحت براہمداغ بگٹی کو پاکستان کے حوالے کردیں تاہم افغان صدر نے کہا کہ ایسا کرنے سے افغانستان اور امریکہ کے امیج کو نقصان پہنچے گا۔ حامد کرزئی نے کہا کہ اکبر بگٹی نے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن پاکستان سے بہتر تعلقات کی وجہ سے انہوں نے انکار کردیا تھا جس پر انہیں افسوس رہے گا۔