سابق امریکی سفیراین ڈبلیوپیٹرسن نے واشنگٹن بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا تھا کہ صدر زرداری میں عوامی قیادت کی صلاحیت نہیں اورنواز شریف پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کی طاقت نہیں رکھتے۔وکی لیکس

سابق امریکی سفیراین ڈبلیوپیٹرسن نے واشنگٹن بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا تھا کہ صدر زرداری میں عوامی قیادت کی صلاحیت نہیں اورنواز شریف پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کی طاقت نہیں رکھتے۔وکی لیکس

وکی لیکس کے تازہ انکشافات کے مطابق این ڈبلیو پیٹرسن کا کہنا ہے کہ صدر مملکت آصف زرداری کو اس بات کا پورا احساس ہے کہ وہ مقبول لیڈرنہیں، وہ عوامی قیادت کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ سابق امریکی سفیرنے انکشاف کیا کہ قومی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے ہمیشہ متحرک اور فعال کردارادا کیا ہے۔ اپنے مراسلے میں امریکی سفیرکا کہنا تھا کہ مسلم نون کے قائد نوازشریف، صدرزرداری کے مقابلے میں زیادہ مقبول لیڈرہیں لیکن وہ پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کو گرانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ وکی لیکس کے مطابق گزشتہ برس امریکی سفیراین ڈبلیو پیٹرسن سے ملاقات میں وزیرداخلہ رحمان ملک نے بتایا تھا کہ گورنرسندھ کے دورہ امریکہ کے دوران امریکہ اور لندن میں برطانیہ نے الطاف حسین پراین آراو کی مخالفت کے لئے دباؤ ڈالا تاہم این ڈبلیو پیٹرسن نے امریکہ کی طرف سے کسی بھی قسم کے دباؤ سے انکارکردیا۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم نے انہیں آگاہ کیا کہ اس سازش میں آرمی چیف بھی شامل ہیں جس کا انہوں نے یقین نہیں کیا۔ رحمان ملک نے امریکی سفیرسے عالمی سطح پرزرداری حکومت اور وزراء کی اخلاقی مدد نہ کرنے کا شکوہ بھی کیا۔ ایک مراسلے کے مطابق صدرآصف زرداری رواں سال ڈپٹی آرمی چیف کا عہدہ دوبارہ تخلیق کرکے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل پاشا کواس پرتعینات کرنا چاہتے ہیں۔ وکی لیکس کا کہنا ہے کہ رحمان ملک نے امریکہ پر واضح کردیا تھا کہ این آراور کے ختم ہونے سے صدرزرداری زیادہ متاثر ہوں گے اور نہ ہی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری انہیں ان کے عہدے سے ہٹا سکیں گے۔