جلال آباد: بھارتی قونصلیٹ پر حملہ کرنے والے تمام پاکستانی تھے: بھارتی اخبار کی درفنطنی

نئی دہلی/کابل (اے این این) بھارت نے افغانستان کے شہر جلال آباد میں اپنے قونصل خانے کے قریب ہونےوالے خودکش حملے کا الزام پاکستان پر عائدکرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان کی سرحد کے دوسری جانب ہوئی، بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا کہ تمام حملہ آور پاکستانی تھے جنہوںنے سات دنوں تک صوبہ کنڑ میں قیام کیا، عرب شدت پسندوں نے ان کی میزبانی کی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیوں سے افغانستان کی تعمیرنو میں بھارت کے کردار روکا نہیں کیا جاسکتا ہم افغانستان کی مدد جاری رکھےں گے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان اوربھارت کی جانب سے کی گئی تحقیقات ظاہر کرتی ہے کہ قونصلیٹ کے قریب ہونیوالے حملے کا منصوبہ افغان سرحد کی دوسری جانب تیار ہوا۔ قونصلیٹ کے قریب ہونیوالا حملہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کی سلامتی اور استحکام کو دہشتگردی سے خطرہ لاحق ہے، دہشت گردی کا ڈھانچہ مسلسل اس کی سرحد کے دوسری جانب سرگرم ہے۔ ” ٹائمز آف انڈیا“ نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ نئی دہلی میں حکام نے بتایا کہ کابل سے جاری ہونے والی جلال آباد واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تمام حملہ آور پاکستانی باشندے تھے۔ افغان ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان جنان موسیٰ زئی نے بھارت کویقین دلایاہے کہ بھارتی سفارتی عملے اور سفارتی عمارتوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ افغان سکیورٹی فورسز بھارتی سفارتی اداروں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہیں، زیادہ تر مربوط حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرحدوںکے باہر ہوتی ہے۔
بھارتی اخبار