اسرائیل خطرناک حالات سے دو چار ہونے والا ہے: صہیونی تجزیہ کار کی پیشگوئی

تل ابیب (اے این این) اسرائیل کے معروف مورخ وتجزیہ نگار پروفیسر شلوموزند نے پیش گوئی کی ہے کہ اسرائیل کا مستقبل نہایت خطرناک حالات سے دوچار ہونے والا ہے،  صیہونی حکومت افسانے گھڑنے اور خیالی تاریخ بنانے کے باوجود عالمی سطح پر یہودیوں کو قومی شکل نہیں دے سکی، متمدن یہودیوں کی اکثریت مقبوضہ فلسطین کے بجائے دیگر ملکوں میں زندگی گذارنے کو ترجیح دیتی ہے۔ ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر شلوموزند نے کہا ہے کہ اسرائیل مکمل طرح سے نسل پرست حکومت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ جس کی وجہ سے خطرناک مستقبل اس کے انتظار میں ہے۔ یہودی ایک دین کے پیرو ہیں اور صیہونی، اسرائیل کے دعووں کے برخلاف ایک قوم نہیں ہیں۔ اس یہودی مورخ نے اپنی کتابوں میں صیہونیت کو شدت سے تنقید کا نشانہ بنایا اور اس انتہا پسندانہ مکتب فکر کے جھوٹ، تحریفوں، اور تاریخ کے مسخ کئے جانے نیز پروپیگنڈا کارروائیوں کا راز فاش کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صیہونی حکومت نے اپنے لئے افسانے گھڑ لئے ہیں اور خیالی تاریخ بنا رکھی ہے ادھر ماہرین نے کہاہے کہ امریکہ میں صیہونی لابیاں ہی وائٹ ہا و¿س کو جنگ پر اکساتی رہتی ہیں۔ سیاسی مبصر مارک دانکوف نے ایرانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں صیہونی لابیاں ہی ہیں جو امریکہ کو جنگ پر مجبور کرتی رہتی ہیں اور صرف جنگ ہی سے انہیں اطمینان ملتا ہے۔ ایران کےلئے نرم گوشہ رکھے دانکوف نے کہا کہ ایران کےخلاف صیہونی حکومت کے اشاروں پر چلنے سے امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی لابیاں امریکہ کےلئے بڑا خطرہ شمار ہوتی ہیں۔
صیہونی مورخ