اسرائیلی عدالت نے یہودیوں کو فلسطینیوں کا لینڈ ریکارڈ استعمال کرنے کی اجازت دیدی

غزہ (این این آئی) اسرائیلی عدالتوں نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی اراضی پر صہیونی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کےلئے یہودیوں کو فلسطینی شہریوں کے لینڈ رجسٹری کی دستاویزات تک رسائی دے دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بیت المقدس کی مرکزی عدالت نے مغربی کنارے اور بیت المقدس فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ سہل بنانے کےلئے فلسطینیوں ہی کے لینڈ ریکارڈ کو استعمال کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صہیونی انتظامیہ اور حکومت کو جب بھی مغربی کنارے اور فلسطین کے دیگر علاقوں میں یہودی آباد کاری کا کوئی منصوبہ شروع کرنا ہوتا ہے تو انہیں لینڈ رجسٹری کا ریکارڈ دیکھنا پڑتا ہے فلسطینیوں کے پاس صدیوں سے ان کی اراضی کا ریکارڈ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق صہیونی عدالت کے فیصلے کے بعد کسی بھی یہودی کو فلسطینیوں کی اراضی کے ریکارڈ تک پہنچنے اور اس میں کسی قسم کی گڑ بڑ کرنے کا بھی موقع مل سکتا ہے۔ نیز یہودی آباد کار فلسطینی شہریوں کی املاک کی دستاویزات محکمہ مال و لینڈ ریکارڈ سے حاصل کرکے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔
اسرائیلی عدالت