بغداد : ایران‘ مصر اور جرمن سفارتخانوں کے سامنے 3 کار خودکش حملے‘ 50 ہلاک 200 زخمی

بغداد (اے ایف پی) بغداد میں ایران‘ مصر اور جرمن سفارتخانوں کے سامنے کار خودکش حملوں میں 50 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے ہیں۔ مرنے والوں میں 2 خواتین اور بنک کے ملازمین بھی شامل ہیں۔ دھماکوں سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ امدادی کارکنان نے ایمبولینس کے ذریعے ہلاک اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں بیشتر کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ایک دھماکہ بغداد کے مرکزی حصے میں واقع ایرانی سفارت خانے کے نزدیک ہوا جس میں کئی افراد کے ز خمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ دو دھماکے بغداد کے مغربی حصے منصور ڈسٹرکٹ میں ہوئے۔ ایک دھماکہ ایران کے حمایتی سیاستدان احمد چلابی کے دفتر کے قریب ہوا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دھماکوں کا ذمہ دار کون ہے؟ دھماکوں کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں جبکہ امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کے مطابق تینوں دھماکے کچھ منٹوں کے وقفے سے ہوئے اور ان کی آواز سے پورا مرکزی بغداد لرز اٹھا۔ عراقی نیشنل کانگریس کے سربراہ احمد چلابی کے ترجمان نے کہا ہے کہ شام کے سفارتخانے کے نزدیک ان کی سیاسی جماعت کے دفتر کو ایک کار خودکش بمبار نے نشانہ بنایا اور مرنے والوں میں ان کے بہت سے محافظ اور ملازم شامل ہیں۔ یاد رہے کہ یہ دھماکے بغداد کے جنوب میں واقع سنی مسلک کے ایک گاوں میں مسلح افراد کی فائرنگ جس میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے‘ کے دو روز بعد ہوئے ہیں۔