پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہ کئے جائیں، فوج کو مرضی سے چلنے دیا جائے : وی کے سنگھ

چنائی (اے پی اے/آئی این پی) سابق بھارتی آرمی چیف جنرل (ر) وی کے سنگھ نے ایل او سی کشیدگی کے باوجود پاکستان سے مذاکراتی پیشرفت پر بھارتی سرکار پر تنقید کے فائر کھول دیئے۔ سابق بھارتی آرمی چیف کا کہنا ہے بھارتی حکومت پاکستان معاملے پر بھارتی فوج کو روکے ہوئے ہے، بھارتی حکومت کو پاکستان سے مذاکرات سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے پاکستان سے مذاکرات پر بھارتی حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے پاکستانی حکومت اور فوج پر بھی الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ وی کے سنگھ نے پاک فوج پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا پاکستانی فوج ایل او سی کشیدگی کی ذمہ دار ہے، بار بار پاکستان کی طرف سے بھارتی سرحدوں میں مداخلت اور گولہ باری کی جا رہی ہے، سابق آرمی چیف ہوں میں کچھ نہیں کر سکتا لیکن بھارتی حکومت کو پاکستانی غنڈہ گردی کا موثر جواب دینا چاہئے۔ بھارتی آرمی طاقت رکھتی ہے اور بھارتی آرمی کو پاکستان سے نمٹنے کا اختیار ہونا چاہئے۔ انہوں نے منموہن حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا اگر بھارتی فوج کے معاملات میں سیاستدان مداخلت کرتے رہے تو سب چیزیں غلط ملط اور گڈ مڈ ہو جائینگی، فوج کو اس کا کام کرنے دیا جانا چاہئے۔ سابق بھارتی آرمی چیف نے جموں و کشمیر میں سرحدی خلاف ورزی اور عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر انٹیلی جنس ناکامی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے یہ باتیں چنائی کے ایک ویلا کالج میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔ انہوں نے کشمیر میں رقوم تقسیم کرنے کے بارے میں سوال پر کہا کہ کشمیر میں آرمی فنڈز فلاحی منصوبوں کے لئے تھے انہیں کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا گیا، سب کچھ ہمدردی اور یکجہتی کے فروغ کیلئے کیا گیا۔ انہوں نے مسلم کش بی جے پی کے وزارت عظمی کیلئے نامزد وزیراعلیٰ گجرات نریندر مودی سے ملاقات کا دفاع بھی کیا اور کہا نریندر مودی سے میری ملاقات سیاسی نہیں تھی، ہم میں سیاست یا ملکی معاملات کے اوپر کسی قسم کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ آئی این پی کے مطابق وی کے سنگھ نے کہا کہ پاکستان بھارت سرحد پر کشیدگی کی صورتحال کی ذمہ دار  بھارت کی مرکزی حکومت ہے‘ وہ فوج کو اپنی مرضی سے نہیں چلنے دے رہی۔ انہوں نے بھارت کی مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا وہ پاکستان کے ساتھ سرحدی صورتحال کی ذمہ دار خود ہے اور سرحد پار سے مسلسل دراندازی ہو رہی ہے تاہم حکومت فوج کو اپنا کام کرنے نہیں دے رہی بلکہ اس معاملے پر اسے دور رکھ رہی ہے۔ مجھے اس بات کا جواب چاہئے بھارتی حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے۔ فوج کو اس کا کام اپنی مرضی سے کرنے دیا جائے۔ فوج کو کام کرنے سے روکنا غلط ہے۔