اوباما اور کانگریس کے رہنماﺅں کے مذاکرات ناکام، شٹ ڈاﺅن سے اربوں کا نقصان

اوباما اور کانگریس کے رہنماﺅں کے مذاکرات ناکام، شٹ ڈاﺅن سے اربوں کا نقصان

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + نیوز ایجنسیاں) اوباما نے کہا ہے کہ شٹ ڈاﺅن امریکی معیشت کا شٹ ڈاو¿ن ثابت ہو سکتا ہے۔ قبل ازیں اوباما اورکانگریس کے رہنماﺅں کے درمیان مالیاتی بل پاس کرانے کے معاملے پر مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اوباما نے ری پبلکن کے سپیکر جان بونیر پر براہ راست تنقید کی اور کہا کہ وہ اس شٹ ڈاﺅن کو ختم کر سکتے تھے۔ اوباما نے ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوان نمائندگان کے سپیکر جان بونیر اور سینٹ میں ریپبلکن رہنما سینیٹر مچ میک کونل اور کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین سے وائٹ ہاﺅس میں بدھ کی شام مذاکرات کئے۔ جان بوینر یہ کہہ کر بات چیت سے چلے گئے کہ ڈیموکریٹس مذاکرات نہیں کرنا چاہتے انہوں نے کہا یہ نرم گفتگو تھی جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ سینٹ کے ریپبلکن رہنما مچ میک کونل نے مذاکرات کو بے سود قراردیا۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے جو اس اجلاس میں شامل تھیں ریپبلکن رہنماﺅں پر بجٹ پر اتفاق کرنے کے لئے مذاکرات کے دوران اپنے اہداف بدلنے کا الزام لگایا۔ دریں اثنا شٹ ڈاﺅن کے تیسرے روز بھی کئی حکومتی اداروں میں ویرانی چھائی رہی۔ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ شٹ ڈاﺅن سے امریکی فوج کے معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔ موزیم، تفریح گاہیں، نیشنل پارک، مجسمہ آزادی اور دیگر سیاحتی مقامات سمیت کئی سرکاری دفاتر بند ہو چکے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں یادگار عمارتوں اور وفاقی دفاتر کے باہرنوٹس لگا دئیے گئے ہیں۔ حکومت کو شٹ ڈاﺅن کے باعث روزانہ 300 ملین ڈالر نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔