نیپال میں قیامت خیز زلزلے کے نو دن گزرنے کے بعد بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے

نیپال میں قیامت خیز زلزلے کے نو دن گزرنے کے بعد  بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے

قیامت تھی جو آ کر گزر گئی،دس ہزار سے زیادہ افراد جان سے گئے،بیس ہزار زخمی ہو ئے اور اسی لاکھ بے گھر  ہوئے اور یہ سب کچھ ہوا دنیا کے سب سے زیادہ مصروف سیاحتی مقام کھٹمنڈو میں،زلزلے  کے نو دن گزرنے کے بعد  نیپالی حکام نے تباہ ہونیوالی عمارات اور گھروں کی دوبارہ تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے جن کا ڈھانچہ پچاس روز میں کھڑا کردیا جائے گاکھٹمنڈو کے مرکزی فٹ بال سٹیڈیم میں اس وقت بھی ہزاروں افراد  بے سرو سامانی کے عالم میں رہ رہے ہیں بحالی کا عمل مکمل ہونے میں تین ماہ کا عرصہ درکار ہے اور اس دوران بے گھر ہونیوالے لوگوں کیلیے خوراک کے ساتھ ساتھ  رہائش فراہم کرنا حکومت نیپال کیلیے دشوار ہے  نیپالی حکومت کا کہنا ہے کہ انہیں فوری طور پر بیس لاکھ خیمے درکار ہیں تاکہ بے گھر افراد کے سر پر سایہ کیا جا سکے دو کروڑ اسی لاکھ آبادی کے ملک میں زلزلے سے اسی لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں،اقوام متحدہ کے مطابق ریلیف کا عمل مکمل کرنے کیلیے پچاس ارب ڈالر درکار ہیں جن کے حصول کیلیے رواں ماہ کے آخر میں جنیوا میں ڈونرز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا