بحیرہ روم:10 تارکین وطن کی نعشیں برآمد،5800 کو بچا لیا گیا

بحیرہ روم:10 تارکین وطن کی نعشیں برآمد،5800 کو بچا لیا گیا

مسراتہ +روم (اے ایف پی +بی بی سی) اٹلی کے کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم لیبیا کے ساحلی علاقوں کے قریب 5800 غیر قانونی تارکینِ وطن کو زندہ بچا لیا گیا ہے اور ریسکیو کیے جانے والے افراد کو اٹلی لایا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں تلاش اور ریسکیو آپریشن اتوار کو پورا دن جاری رہنے کا امکان ہے۔کوسٹ گارڈ حکام نے مزید بتایا ہے کہ یہ افراد اچھے موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف کشتیوں پر سوار ہو کر غیر تارکینِ وطن پر بحیرہ روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔رواں سال کے دوران اب تک بحیرہ روم غیر قانونی طور پر عبور کرنے کی کوشش میں 1750 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو اٹلی اور فرانس کی امداد کشتیوں نے بچایا اور غیر تارکینِ وطن کو سمندر میں 27 مقامات پر ریسکیو کیا گیا۔ 10تارکین وطن کی نعشیں ملی ہیں، ایک دن میں بچائے گئے تاریکن وطن کی یہ ریکارڈ تعداد ہے، 2مشتبہ انسانی سمگلروں کو اطالوی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، اٹلی کوسٹ گارڈز نے بچائے جانے والے تارکین وطن کی تعداد 800 بتائی ہے، اٹلی کے 10 جہازوں،4نجی کشتیوں اور فرانسیسی جہاز سے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا، یہ تارکین وطن افریقہ کے ہیں، ان میں اکثریت اریئسریا، شام اور دیگر ممالک کے لوگوں کی ہوتی ہے ادھر لیبیائی ساحلی محافظوں نے 5کشتیوں کو روک کر یورپ جانے والے 500 تاریکن وطن کو حراست میں لے لیا، تعلق افریقہ سے تھا، آسٹرین چانسلر وارنر نے مین نے مشورہ دیا یورپی یونین تاریک وطن کے حوالے سے کوٹہ مقرر کرے۔