ایرانی ایٹمی معاہدے کی حمایت کے بدلے خلیجی ممالک نے سکیورٹی کی ضمانت، جدید ہتھیار مانگے ہیں: امریکی اخبار

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی ریاستیں ایرانی ایٹمی معاہدے کی حمایت کے بدلے امریکہ سے جدید ہتھیار اور ممکنہ حملے کی صورت میں امریکی مداخلت کے سمجھوتے کی خواہش مند ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل نے یہ بات امریکی اور عرب سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہی۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق بااثر خلیجی عرب ممالک نے اس بات کا عندیہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے ممکنہ ایٹمی معاہدے کی حمایت کرسکتے ہیں اگر امریکہ انہیں سلامتی کے تحفظ کی ضمانت دینے کے علاوہ جدید ہتھیار فراہم کرے۔ جریدے کے مطابق بحرین، کویت، رومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنما 13 مئی کو وائٹ ہائوس میں صدر بارک اوباما سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات کے دوران امریکہ سے جدید ترین فائٹر طیارے ایف35، جدید میزائل، میزائل دفاعی نظام، جاسوسی اور نگرانی کے آلات کے علاوہ ڈرونز فراہم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ اخبار کے مطابق خلیجی رہنما صدر اوباما سے ملاقات میں امریکہ اور خلیجی ریاستوں سے نئے دفاعی معاہدوں کے لیے بھی زور دیں گے، جس کے تحت اگر انہیں ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کا خطرہ محسوس ہو تو امریکہ مداخلت کرسکے گا۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زائد النہیان نے گزشتہ ماہ ہی صدر اوباما سے وائٹ ہائوس میں ملاقات کی اور ان سے سکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری بھی اس سلسلے میں 8 مئی کو پیرس میں خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کررہے ہیں۔