پشاور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خاندان کو ان سے ملنے کی اجازت دیدی

پشاور(بیورورپورٹ)پشاور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خاندان کو ان سے قانون کے مطابق ملاقات کی اجازت دیدی۔ چیف جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس محمد دائود خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ لطیف آفریدی کی وساطت سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں گرفتار ملزم کے بھائی جمیل آفریدی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے ملاقات انکا قانونی حق ہے جبکہ جیل انتظامیہ نے انہیں اور شکیل آفریدی کے خاندان کو ان سے ملاقات کے حق سے محروم رکھا ہے۔ وکیل لطیف آفریدی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا حق بنتا ہے کہ اس کاوکیل اور خاندان اس سے ملاقات کر سکے جس پر سماعت کے دوران فا ضل بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شکیل کے ساتھ خاندان کی ملاقات قانونی طور پر جائز ہے آخر کیا وجہ ہے کہ جیل انتظامیہ ملاقات کی اجازت نہیں دے رہی۔ عدالت عالیہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی خاندان کو ان سے قانون کے مطابق ملنے کی اجازت دیدی۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کیلئے جعلی ویکسی نیشن مہم چلائی تھی۔