امریکی کیوں نہیں سمجھتے پاک فوج اپنے ہی بھائی بندوں پر گولی نہیں چلانا چاہتی : امریکی کرنل

نیویارک (نمائندہ خصوصی) ایک امریکی فوجی ماہر نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کا احساس کرے کہ پاک فوج اپنے ہی لوگوں کیخلاف ہونے کے حوالے سے مشکل صورتحال کا شکار ہے۔ ایک آرٹیکل میں کرنل (ر) رالف پیٹرس نے کہا ہے کہ ہمارے سفارتکاروں اور جرنیلوں کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں آتی کہ لاکھوں جوانوں پر مشتمل فوج آخر طالبان کیخلاف لڑنے سے کیوں گریز کررہی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اگرچہ پاکستانی فوج میں بیشتر جرنیلوں کا تعلق پنجاب سے ہے مگر اس میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے جرنیل اور اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں۔ امریکی عہدیدار اس بنیادی بات کو نظرانداز کردیتے ہیں کہ ایک جنرل یا کرنل کے خاندان کے لوگ پہاڑی علاقوں میں بکھرے ہوئے ہیں جہاں لوگ ہمیشہ کٹر قسم کے مسلمان رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اکثر پشتون فوجی افسر عام طور پر طالبان کے حامی نہیں مگر وہ اپنے ہی بھائی بندوں اور بھتیجوں بھانجوں پر گولی چلانے سے ہچکچاتے ہیں۔ فوج قومیت پرستی پر مشتمل ایک ادارہ ہے جس نے ملک کو متحد کررکھا ہے۔ پاکستان کی فوج نے قیام پاکستان سے ہی ایک متحدہ محاذ برقرار رکھا ہے۔آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس میں طالبان کے زبردست حامی موجود رہے ہیں اور وہ طالبان کو فائدہ مند تصور کرتے ہیں۔ پاک فوج کے جرنیل ایک خانہ جنگی کی کیفیت میں لڑنا نہیں چاہتے کیونکہ طالبان کو شکست دینے کیلئے بہت کشت و خون ہوگا۔ اگرچہ فوج کیلئے طالبان کو شکست دینا ممکن ہے مگر یہ بہت خونریز اور مشکل لڑائی ہوگی۔