امریکہ کا افغانستان میں مزید فوج بھیجنے سے انکار ‘ جھڑپوں میں 30 صالبان شہید کرنے کا دعوی

واشنگٹن+کابل (آئی این پی +اے ایف پی) امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعیناتی کے لئے منظور کئے گئے 68 ہزار سے زیادہ فوجی بھیجنا مشکل ہو گا جبکہ افغانستان میں امریکہ کے اعلیٰ ترین کمانڈر جنرل میک ملن نے 2010کے لئے مزید دس ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ایک خبر رساں ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد 2009ء کے آخر تک 68 ہزار ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کی مزید فوج بھیجنا مشکل ہو گا جبکہ افغانستان میں تعینات امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈ جنرل میک ملن نے 2010ء کے لئے مزید 10 ہزار فوج افغانستان بھیجنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ادھر افغانستان میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 3 امریکیوں سمیت 6 اتحادی فوجی ہلاک ہو گئے ۔ اتحادی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میںکیا گیاہے کہ باغی جنگجوئوں نے افغان صوبے کنڑ میں اتحادی فوجیوں پر دستی بموں سے حملہ کیا اور فائرنگ کی۔ دریں اثناء افغانستان میں نیٹو کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر ڈیوڈ ھک نے کہا ہے کہ افغانستان میں رواں موسم گرما انتہائی خون ریز ہوگا اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے خاتمہ تک جو روایتی جنگ کا سیزن ہے اس میں بین الاقوامی فورسز 90 فیصد آبادی کو سکیورٹی دینے کے کابل ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ لاجسٹک انتہائی پیچیدہ ہوتی ہے اگر ایک منصوبہ غلط جاتا ہے تو اس سے سارا منصوبہ ناکام ہوجاتا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت افغان صورتحال تعطل کا شکار ہے ۔امریکی فوج نے کنٹر میں19 ہلمند اور قندھار میں جھڑپوں کے دوران 11 طالبان کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکہ انکار