کٹوتیوں کے معاہدے سے امریکی معیشت کو دھچکا، 7لاکھ افراد کا روزگار خطرے میں پڑ گیا

واشنگٹن (آئی این پی/ ثناءنیوز) امریکی صدر اوباما نے پچاسی بلین ڈالر کی کٹوتیوں کے بل پر دستخط کر دیئے۔کٹوتیوں پر دو سال قبل سے کام ہو رہا تھا جس سے بچنے کے لئے صدر اوباما نے آخری کوشش کے طور پر گزشتہ روز کانگریس کے رہنماو¿ں کو وائٹ ہاو¿س طلب کیا تھا مگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا،آئی ایم ایف نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس سے عالمی معیشت پر شدید برے اثرات پڑیں گے۔ وائٹ ہاو¿س میں ہونے والے مذاکرات کے بے نتیجہ اختتام پر صدر اوباما نے کانگریس میں موجود رپبلکن جماعت کے ارکان کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ انہوں نے ان کٹوتیوں کو ہونے دیا کیونکہ وہ ایک واحد خامی کو دور کرنے پر تیار نہیں تھے جس سے خسارے میں کمی کی جاسکتی تھی۔ صدر اوباما نے کہا کہ ان کٹوتیوں کے اثرات کی وجہ سے امریکی معیشت ایک فیصد تک سست روی کا شکار ہو گی اور اس کے نتیجے میں ساڑھے سات لاکھ ملازمتیں جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بیوقوفانہ قسم کی سلسلہ وار کٹوتیاں نہیں کرنی چاہئیں ایسی چیزوں پر جن پر کاروبار اور کارکنوں کا دارومدار ہو۔کانگریس کے رپبلکن سپیکر جان بوئنر نے کہا کہ ان کی جماعت ٹیکس میں اضافہ نہیں ہونے دے گی۔وائٹ ہاو¿س سے مذاکرات کے بے نتیجہ اختتام کے بعد نکلتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک ٹیکس آمدن پر بات چیت ختم ہو چکی ہے جبکہ اب اخراجات کے مسئلے پر بات چیت ہو گی۔ منظور شدہ عارضی وفاقی بجٹ کی میعاد ستائیس مارچ کو ختم ہو جائے گی اور اگر نیا بجٹ منظور نہ ہوا تو اس سے وفاقی حکومت کے کئی ادارے بند ہو سکتے ہیں۔دونوں جانب میں صدر اوباما کی جانب سے ملک کے 16ٹرلین قرضے سے نمٹنے کے لئے ٹیکسوں میں اضافے پر اتفاق نہیں ہو سکا جو کہ دونوں جانب سے اہم مسئلہ ہے۔