مقبوضہ کشمیر: فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار ہلاک‘ مظاہرے جاری : بھارت گورو‘ مقبول بٹ کی میتیں واپس کرے: علی گیلانی

مقبوضہ کشمیر: فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار ہلاک‘ مظاہرے جاری : بھارت گورو‘ مقبول بٹ کی میتیں واپس کرے: علی گیلانی

سرینگر (آن لائن) بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے بھارت سے مقبول بٹ اور افضل گورو شہید کی میتوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھانسیاں جیلوں میں شہدا کی تدفین غیر آئینی، غیر جمہوری بلکہ غیر انسانی فعل ہے جس کے ذریعے کشمیریوں کو غلام بنائے رکھنے کی کوشش ہے۔ بھارت کے جارحانہ اور ظالمانہ اقدامات سے آزادی کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ افضل گورو کے جسد خاکی کی واپسی کے حوالے سے متحدہ مجلس مشاورت کی کال پر شوپیاں میں احتجاجی مظاہرے سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ مرحوم افضل گورو کی جسد خاکی اور محمد مقبول بٹ کی باقیات کو واپس کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبہ ہندواڑہ میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے دو پولیس اہلکاروں پر نزدیک سے گولیاں چلائیں جس کے نتیجہ میں کانسٹیبل سنتوش اور کانسٹیبل آزاد چند ہلاک ہو گئے، یہ بس اڈے پر تعینات تھے۔ ہندواڑہ میں تعینات اعلیٰ پولیس افسر محمد اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح پرہجوم بس اڈے پر تعینات دونوں اہلکاروں پر نامعلوم اسلحہ برداروں نے سائلنسر لگے پستول سے گولیاں چلائیں، دونوں کی ہلاکت موقع پر ہی ہو گئی۔ یہ و اقعہ ایک ایسے وقت رونما ہوا ہے جب جموں کشمیر کی حکومت نے پولیس کو لامحدود اختیارات دینے سے متعلق ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اگر اس قانون کو اسمبلی اور کابینہ نے منظور کر لیا تو پولیس کسی ہجوم پر فائرنگ کرنے کے لئے مجسٹریٹ کی اجازت کی محتاج نہیں ہو گی۔