غیر ملکی بحری جہازمیں پاکستانی انجینئر بھوک سے جاں بحق

افریقہ(اے پی اے ) غیر ملکی بحری جہاز میں پاکستانی عملے کے ساتھ نارواسلوک کا ایک اور واقعہ سامنے آیاہے۔ایک ماہ سے عملے کو کھانا نہ ملنے کے باعث ایک پاکستانی سکینڈ انجینئر انتقال کرگیا ،جہاز کا تمام عملہ بھوک سے نڈھال ہے۔ سکینڈ انجینئر غلام حسین آٹھ ماہ قبل کراچی سے ایم وی میم نامی بحری جہاز میں عملے کے طور پر کراچی سے روانہ ہوئے تاہم کون جانتا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا آخری سفر ہوگا۔ غلام حسین کی بیٹی سبین کے مطابق بحری جہاز کے عملے کو گزشتہ ایک ماہ سے کھانا نہیں دیا گیا جس سے ان کے والد انتقال کرگئے اور میت ناکالا پورٹ پر موجود ہے۔ سکینڈ انجینئر غلام حسین کے اہل خانہ نے صدر، وزیراعظم ، گورنر سندھ اور الطاف حسین سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کی میت کو جلد از جلد پاکستان لایا جائے۔ سماجی رہنما انصار برنی کے مطابق بحری جہاز میں آٹھارہ پاکستانی، چار بھارتی، ایک ایک بنگالی اور مصری شہری موجود ہیں۔ جن کی حالت انتہائی تشویش ناک ہوچکی ہےجبکہ عملے کو سات ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کی گئی۔غلام حسین میت کی وطن واپسی کیلئے ساو¿تھ افریقہ میں پاکستانی ایمبیسی سے رابطہ کیا ہے اگلے چند روز میں میت اور جہاز سے پسے پاکستانی عملے کو وطن واپس لایا جائے گا۔