’’شرم الشیخ میں نوازشریف نے منموہن کو ڈانٹ پلائی‘‘ بھارتی میڈیا کے غلط حقائق

نئی دہلی (آئی این پی) بھارتی میڈیا نے شرم الشیخ میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے معروف بھارتی مصنف اور سینئر صحافی کلدیپ نیئرکی کتاب ایک زندگی کافی نہیں کو نٹور سنگھ کی نئی کتاب سے منسوب کردیا۔ واضح رہے گزشتہ روز  بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں کہاگیا تھا سابق بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے اپنی نئی کتاب ’’ایک زندگی کافی نہیں‘‘ میں کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو کوئی اہمیت نہیں دی اور انہیں دیہاتی عورت قرار دے کر اور بعدازاں شرم الشیخ میں ہونے والی ملاقات میں مذاکرات کے حوالے سے بے سود قرار دے کر ڈانٹ پلادی۔ ناقدین کے مطابق کلدیپ نیئر اور خشونت سنگھ کی کتابوں کے حوالے دیکر بھارتی میڈیا نے ان کو نٹور سنگھ سے منسوب کیاہے۔ نٹور سنگھ کے مطابق حقیقت میں پاکستانی وزیراعظم نے من موہن سنگھ کے اختیارات کو کمزور جانا۔ 2013ء میں شرم الشیخ میں ہونے والی ملاقات میں جرأتمندانہ طریقے سے اپنے بھارتی ہم منصب سے کہا  ان سے مذاکرات اور بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں اور وہ نئے وزیراعظم کیساتھ بات چیت کو ترجیح دیں گے۔ نٹور سنگھ کی کتاب سے لئے گئے اقتباس کے مطابق شرم الشیخ میں من موہن سنگھ نے پاکستان کے بلوچستان میں مداخلت کے حوالے سے بھارت پر لگائے گئے الزامات پر اخلاقی لغزش کا مظاہرہ کیا اور ایسا لگتا تھا اس نے پاکستان کے موقف کو سچا ثابت کر دیا۔ ناقدین کے مطابق شر م الشیخ میں نوازشریف اور من موہن سنگھ کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی تاہم شرم الشیخ میں پاکستان اور بھارت  کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات ہوئی تھی تاہم اس وقت پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی تھے اور بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ تھے تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر من موہن اور نوازشریف کی ملاقات ہوئی شاید بھارتی میڈیا اس کا حوالہ دینا بھول گیا۔