ڈرون حملے، جولائی سب سے زیادہ خونریز ثابت ہوا، 32 افراد مارے گئے: رپورٹ

لندن (این این آئی) برطانیہ میں ایک تحقیقاتی ادارے نے کہا ہے کہ جولائی میں شمالی وزیرستان میں تین امریکی ڈرون حملوں میں 32 افراد جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی 2014ء جولائی 2012ء کے بعد ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی وجہ سے سب سے زیادہ خونریز مہینہ ثابت ہوا۔ گزشتہ ماہ تین امریکی ڈرون حملوں کی وجہ سے اموات کی شرح میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔ اعدادوشمارکے مطابق ایک ڈرون حملے میں اموات کی شرح 10.7 ہے، یہ شرح اموات جون میں 4.6 شرح اموات سے تقریباً دوگنا زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونیوالے افراد میں سے صرف تین کی شناخت ہوئی جو کہ القاعدہ کے ارکان تھے، شام کے القاعدہ کے ایک رہنماء صنفی النصر کے مطابق 10 جولائی کو شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں جاں بحق ہونیوالوں میں فیاض اودا الخالدی، تاج اللکی اور عبدالرحمن الکویتی شامل ہیں۔ 16 جولائی کو ایک سال کے سب سے بڑے امریکی حملے میں 15 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حملے میں اطلاعات کے مطابق ایک اجلاس کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم کچھ ذرائع کے مطابق دو مساجد کو امریکی ڈرون نے نشانہ بنایا جس میں ایک حملے میں 12 دوسرے حملے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوئے تھے، 19 جولائی کو مداخیل گائوں میں ایک اورڈرون حملے میں 11 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔