ننگر ہار میں چوکیوں پر حملہ کرنے والے65 طالبان کو ہلاک کر دیا: افغان حکام، حملہ آوروں کو آئی ایس آئی اور پاک فوج کی معاونت کا بھی دعویٰ

کابل (آئی این پی) افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبہ ننگرہار میں طالبان نے پاک فوج اور آئی ایس آئی کی مدد سے پولیس چوکیوں پر حملے کیے ہیں اس دوران افغان فورسز کی جوابی کارروائی میں 65 جنگجو ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے ،دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں میں  افغان نیشنل سیکورٹی فورسزکے  آپریشن میں 29 طالبان جنگجو مارے گئے۔ہفتہ کو صوبائی پولیس کے سربراہ فضل احمد شیرزاد نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سینکڑوں طالبان جنگجوئوں نے جمعہ کی رات ضلع حیسارک میں پولیس  چوکیوں پر حملہ کیا اس دوران جھڑپوں میں 65 جنگجو مارے گئے جبکہ 20 زخمی بھی ہوئے ۔صوبائی پولیس  چیف نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ چار دنوں میں طالبان عسکریت پسندوں نے پاک فوج اور آئی ایس آئی کی مدد سے ضلع حیسارک میں پولیس کی تنصیبات پر حملے کئے  اور گزشتہ رات آٹھ بجے 1200کے قریب جنگجوئوں نے بھرپور حملہ کیا ۔فضل احمد شیرزاد کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں افغان فورسز کو ایساف کی فضائی مدد بھی حاصل تھی۔ اس دوران افغان فورسز کا کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور تمام چوکیوں کا کنٹرول ہمارے پاس ہے۔ طالبان نے گزشتہ چار دنوں کے دوران ضلع حیسارک میں تین حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سکیورٹی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے اضافی دستے تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ ادھر افغان وزارت داخلہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان نیشنل سکیورٹی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران 29 طالبان جنگجو  جاں بحق کر دیئے۔