مقبوضہ کشمیر: جھڑپ میں مزید2 مجاہد شہید، کوثر ناگ یاترا کیخلاف ہڑتال، مظاہرے جاری، بیسیوں زخمی، یاسین ملک ساتھیوں سمیت گرفتار

سری نگر(اے این این)مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی  فوج نے تازہ  جھڑپ کے دوران مزید دو مجاہدین کوشہیدکرنے کادعویٰ کیاہے ،ایک فوجی اہلکاراپنی  سروس رائفل   سے اچانک گولی چلنے سے ہلاک،  متنازعہ کوثر ناگ یاترا  کیخلاف  احتجاج کاسلسلہ بدستورجاری ، مختلف مقامات پرپولیس کے ساتھ جھڑپوں میں بیسیوں افراد زخمی ، میرواعظ عمر فاروق اور شبیر احمد شاہ سمیت متعددرہنما گھروں میں نظربند ، یاسین ملک اور  شوکت احمد بخشی سمیت دیگر گرفتار۔ قابض فوج  کے ترجمان کے مطابق کیرن سیکٹرمیں جھڑپ دوسرے روز بھی جاری رہی۔ جھڑپ میں قابض فوج نے مزید دو مجاہدین کوشہیدکرنے کادعویٰ کیا تاہم شہید کئے جانے والے مجاہدین کی شناخت ظاہرنہیں کی گئی  جبکہ  دو مجاہدین کی تلاش کیلئے  پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر وسیع پیمانے پرآپریشن شروع کردیا گیا  اور اس حوالے سے فضائیہ کی مددبھی حاصل کرلی گئی ہے۔  اوڑی میں باروی سرنگ دھماکے میں ایک خاتون زخمی ہوگئی۔          ادھر قابض  قوج نے توسہ میدان سے بارودی مواد صاف کرنے کیلئے دو ماہ کی مہلت طلب کرلی  اور    عوام سے  نقل وحرکت سے اجتناب کرنے کی اپیل کی ہے۔    دوسری جانب   متنازعہ کوثر ناگ یاترا  کے خلاف  احتجاج کا سلسلہ بدستورجاری ہے اور گزشتہ روز نوہٹہ، سوپور، بانڈی پورہ، پلہالن اور ترال میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ مختلف مقامات پرمظاہرین اورقابض فوجیوں  وپولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں بیسیوں مظاہرین زخمی ہوئے۔ کولگام میں تیسرے روز بھی  ہڑتال کے باعث  معمول کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔ قابض انتظامیہ نے مظاہروں کوروکنے کیلئے حریت رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ کاسلسلہ جاری رکھا ۔میرواعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ،  ایڈووکیٹ شاہدالاسلام کو  گھروں اور دفتروں میں نظربند رکھا  جبکہ   انجینئر ہلال احمد وار، یاسین ملک،  شوکت بخشی، یاسین عطائی، یوسف نقاش  اور سید امتیاز کو گرفتارکر لیاگیا۔ دریں اثناء  سری نگرکے علاقے سولنہ میں نالے میں گرکردوطالب علم جا ں بحق ہوگئے جبکہ دیگرحادثات میں پانچ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے۔