امریکی عدالت نے گوانتانامو جیل کے قیدیوں کی مکمل تلاشی لینے کی اجازت دیدی

واشنگٹن (اے ایف پی) امریکی عدالت نے گوانتانامو جیل کے گارڈز کو اس بات کی اجازت دیدی ہے کہ وہ مشتبہ شدت پسند قیدیوں کے جسم کے نازک حصوں کی بھی تلاشی لے سکیں گے۔ اس سے پہلے 2013ء میں ڈسٹرکٹ جج رائس لیمبرتھ نے قیدیوں کے جسم کے نازک حصوں کی تلاشی لینے کی نئی حکومتی پالیسی پر عملدرآمد روکدیا تھا۔ گزشتہ روز فیڈرل ججز کے ایک پینل نے اپنے متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ قیدیوں کی لباس سمیت نازک حصوں کی تلاشی سکیورٹی کے لحاظ سے بڑی معقول ہے اس طرح جیل میں خطرناک روایات اور دیگر اشیاء کی سمگلنگ کو روکا جا سکے گا جس سے گارڈز اور قیدیوں کے تحفظ میں اضافہ ہو گا۔ فیصلے کے مطابق قیدیوں کی اپنے وکلا سے ملاقات سے پہلے اور بعد میں مکمل تلاشی لی جائیگی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نازک حصوں کی تلاشی نہ لینے کے باعث تشویش میں اس وقت  اضافہ ہوا جب ایک قیدی نے سمگل شدہ دوا کی زیادہ مقدار کھا کر خود کشی کر لی تھی جبکہ قیدیوں کی بارکوں سے رینچ سمیت دوسرے ہتھیار بھی برآمد کئے گئے تھے۔