امریکی سینیٹرز کی جاسوسی کیوں کی؟کانگریس کا اپنی ہی خفیہ ایجنسی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

امریکی سینیٹرز کی جاسوسی کیوں کی؟کانگریس کا اپنی ہی خفیہ ایجنسی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

واشنگٹن (این این آئی)مریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے  نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ ایجنسی اپنے ملک کے سیاستدانوں کی بھی جاسوسی کرتی ہے اور اس کے اہلکار جعلی آئی ڈی اور پاس ورڈ بنا کر سیاستدانوں کے کمپیوٹروں میں جھانکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے کمپیوٹر نیٹ ورک تک دھوکے بازی کے ذریعے رسائی حاصل کی گئی اور کمیٹی کے ارکان کی ای میل اور دیگر معلومات کو چوری کیا گیا۔ سی آئی اے نے ایک بیان میں کہا کہ ایجنسی کے ڈائریکٹر جان برینن نے کمیٹی کی سربراہ مس فائن سیٹن اور سینیٹر سیکسبی سے معافی مانگ لی ہے۔ دوسری جانب کانگرس کے ارکان نے ایجنسی کی حرکتوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سینیٹر مارک اڈال اور ان کے ساتھیوں نے سی آئی اے کے سربراہ سے استعفے کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔ سی آئی اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے والوں میں امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن کے رہنما شامل ہیں۔
امریکی کانگریس /حکام