امریکہ کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنی پاکستانی حکام کو رشوت دینے پر مصیبت میں پھنس گئی

واشنگٹن (این این آئی) امریکہ میں اسلحہ تیار کرنیوالی سب سے بڑی کمپنی پاکستانی حکام کو رشوت دینے پر مصیبت میں پھنس گئی ہے۔ اسے فوجداری مقدمہ سے جان چھڑانے کیلئے 20 لاکھ ڈالر سے زائد رقم خرچ کرنا پڑی ہے۔ کیس کی تفصیلات امریکی سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی قوانین سخت ہونے کے باعث جب ملک میں ہتھیاروں کی فروخت میں تیزی سے کمی ہونے لگی تو اسلحہ ساز کمپنیوں نے بیرونی گاہک تلاش کرنے شروع کئے جس کیلئے بھاری تنخواہوں پر سٹاف رکھا گیا جسے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کرکے اسلحہ کی فروخت کے کنٹریکٹ حاصل کرنے کا ہدف دیا گیا، اسلحہ کی انٹرنیشنل مارکیٹ میں جگہ حاصل کرنے کیلئے مختلف ملکوں میں ان شخصیات سے رابطہ کیا گیا جن کے پاس اسلحہ کی خریداری کے مراحل کی منظوری کا اختیار تھا، ہتھیاروں کی فروخت کیلئے سب سے بڑا ہتھیار لالچ استعمال کیا گیا۔ سمتھ اینڈ ویسن کمپنی نے 2008ء میں پاکستان کو اسلحہ کی فروخت کیلئے تیسرے فریق کو اپنا ایجنٹ بنایا جس کے ذریعے پہلے پاکستانی پولیس کے افسروں کو 11 ہزار ڈالر مالیت کے پستول  اور بندوقیں بطور تحفہ دی گئیں، اسکے بعد نقد رقم کی شکل میں رشوت دی گئی جس کے نتیجے میں کمپنی پاکستانی پولیس کو 2، 2 لاکھ، 10 ہزار ڈالر کے عوض 548 پستول فروخت کرنے کا کنٹریکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس نے اس سودے میں ایک لاکھ ڈالر سے زائد منافع کمایا، سمتھ اینڈ ویسن نے انڈونیشیا، ترکی، نیپال اور بنگلہ دیش میں حکام کو مختلف سکیموں کی صورت میں رشوت تو دیدی لیکن اسلحہ کی فروخت کا کنٹریکٹ پھر بھی حاصل نہ کرسکے، انہیں کامیابی صرف پاکستان میں ہی نصیب ہوئی۔ کمیشن نے خفیہ آپریشن کے ذریعے اس سکینڈل کو بے نقاب کیا، کمپنی نے ممکنہ پابندیوں سے بچنے کیلئے تصفیے پر رضامندی ظاہر کی جس کے مطابق یہ کمپنی اس سودے میں حاصل کردہ 107,582  ڈالر منافع ایس ای سی کو واپس کریگی اور اسکے علاوہ 21,040  ڈالر سود ادا کریگی، جرمانے کی مد میں اسے 19 لاکھ ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔ کمپنی نے اپنا تمام انٹرنیشنل سیلز سٹاف برطرف کردیا ہے۔ سکینڈل میں 160 سالہ پرانی کمپنی کی شہرت بھی داغدار ہوئی، اسکے حصص کی قیمت تیزی سے گر رہی ہے۔ اس سکینڈل میں نام آنے پر انڈونیشیا، ترکی، نیپال اور بنگلہ دیش میں مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے لیکن پاکستان میں تمام تر شواہد کے باوجود یہ معاملہ دبایا جارہا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں صرف سرکاری حکام ہی نہیں بلکہ اس وقت کی حکومتی شخصیت نے بھی حصہ وصول کیا۔