امریکی ریاست کیلیفورنیا میں خشک سالی گورنر نے تاریخ میں پہلی مرتبہ پانی کے زیادہ استعمال پر پابند ی عا ئد کر دی

کیلیفورنیا(آن لائن+اے این این+بی بی سی) امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر نے ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانی کے زیادہ استعمال پر پابندی عائدکر دی ۔گورنر جیری براؤن نے خشک سالی کا شکار ریاست کے شہروں اور قصبات میں پانی کے استعمال میں 25 فیصد کمی کا حکم دیا ہے۔کیونکہ خشک سالی ہو گئی ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت کے زیرِ انتظام باغات میں بڑے علاقے میں ایسے پودے لگائے جائیں گے جنھیں بہت کم پانی درکار ہوگا جبکہ قصبوں میں نمائشی گھاس کو پانی دینے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔گذشتہ برس گورنر براؤن نے کئی برس سے قحط کی سی صورتحال کے بعد ریاست میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔کیلیفورنیا میں موجود پہاڑوں میں اب تک کی سب سے کم برفباری کی وجہ سے اس سال وہاں پانی کی کمی کا سنگین خدشہ موجود ہے۔جیری براؤن نے سیئرا نیوادا کے پہاڑوں پر سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم جہاں خشک گھاس پر کھڑے ہیں وہاں ہمیں پانچ فٹ تک برف میں دھنسا ہونا چاہیے تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں اور ’اپنے چھوٹے سے خوبصورت گھاس کے قطعے کو روزانہ بہت سا پانی دنیا جلد ہی ماضی کی بات بننے والی ہے۔گورنر کے نئے احکامات کے تحت ریاست میں یونیورسٹیوں، قبرستانوں، گولف کے میدانوں کے علاوہ بڑے زمینداروں کو پانی کے استعمال میں کمی کرنا ہوگی۔تاہم جیری براؤن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے یہ احکامات پانی کے زرعی استعمال پر موثر طریقے سے لاگو نہیں ہوتے۔فوڈ اینڈ واٹر واچ نامی گروپ کے ڈائریکٹر ایڈم سکاؤ کا کہنا ہے کہ ’شدید قحط میں بھی گورنر کارپوریٹ فارمز اور تیل کی صنعت کو پانی کے زیرِ زمین ذخائر کو آلودہ کرنے کی اجازت دے رہے ہیں اور یہ ذخائر پانی کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔خیال رہے کہ کیلیفورنیا میں سنہ 2003 اور 2007 میں شدید خشک سالی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں ریاست میں بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ بھی لگ گئی تھی۔