دوشنبے میں چار ملکی سربراہ اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بعد اختتام پزیر ہوگیا

دوشنبے میں چار ملکی سربراہ اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بعد اختتام پزیر ہوگیا

مشترکہ اعلامیہ کے مطابق سربراہ اجلاس میں خطے میں امن وسلامتی اور مواصلاتی رابطوں کو وسعت دینے کے لئے مشترکہ کوششوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں توانائی ، ٹرانسپورٹ،مواصلات اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے منصوبہ جات کومشترکہ بنیادوں پرمکمل کرنے کے عزم کابھی اظہار کیا گیا۔ صدرمملکت آصف علی زرداری نے سربراہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ۔صدرمملکت سے تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور شراکت داری کو بڑھانے کے عزم کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارت، معیشت، انفراسٹرکچر، مواصلات، توانائی، زراعت، صحت، ثقافت اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تاجکستان پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا۔ اس سے پہلے صدرمملکت آصف علی زرداری سے افغانستان کے صدرحامدکرزئی نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماﺅں نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سے متعلقہ امور اور اس پر خوش اسلوبی سے عملدرآمد پر زوردیا۔ ۔اجلاس کے شرکاء نے صدرمملکت آصف علی زرداری کی طرف سے آئندہ سال سربراہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد کرنے کی دعوت بھی قبول کرلی ۔