مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج سے 20 گھنٹے تک جھڑپ ، 4 مجاہدین شہید، 2 محاصرہ توڑ کر فرار

سرینگر (آن لائن/ رائٹرز) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ 20 گھنٹے تک جھڑپ کے بعد 4 مجاہدین شہید ہو گئے جبکہ 2 مجاہد محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کیمطابق بھارتی اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے آزاد کشمیر سے ملحقہ علاقے تنگھر میں بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری نے آرمی بیس پر حملہ کی مجاہدین کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی ہے۔ بھارتی پولیس اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حملہ آور پاکستان سے سرحد عبور کر کے داخل ہوئے تھے اور وہ آرمی بیس پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن سکیورٹی اداروں نے ان کا گھیرائو کیا تو مجاہدین نے 2 گھروں میں پناہ لے لی۔ سکیورٹی فورسز نے ہیوی مشین گنوں اور مارٹر گولے فائر کئے۔ اعلیٰ پولیس افسر غریب داس نے بھی بتایا کہ مذکورہ 2 گھروں میں زور دار مختلف دھماکے ہوئے، فائرنگ کا تبادلہ 20 گھنٹے تک جاری رہا جس سے 4 مجاہد شہید ہو گئے جبکہ 2 کی تلاش جاری ہے جو فرار ہوگئے۔ آن لائن نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ مجاہدین کے ایک گروپ نے کرناہ میں کنٹرول لائن پر دراندازی کی کوشش کے بعد وہاں قائم بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے احاطے کی طرف آنے کی کوشش کی اور مین گیٹ پر موجود حفاظتی اہلکاروں نے انہیں للکارا تو وہ نزدیکی دو مکانوں میں گھس گئے اور وہاں سے فوجی ہیڈکواٹر پر فائرنگ کر دی۔ معلوم ہوا ہے کہ 104 انفنٹری بریگیڈ کے دو سو میٹر کی دوری پر واقع آرمی ہسپتال کے گیٹ کے پاس منیر شیخ اور سکور احمد کے مکانوں میں مجاہدین دن بھر محصور رہے جس کے بعد فوج کی تمام یونٹوں کے علاوہ پولیس اور ایس او جی اہلکار الرٹ ہوئے اور انہوں نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے لیا۔ مجاہدین کی طرف سے شدید فائرنگ کا سلسلہ رات دیر گئے تک جاری رہا۔بھارتی فورسز نے مکانوں پرمارٹر گولے داغے گئے اور دوطرفہ شدید فائرنگ جاری رہی۔ فوجی ترجمان کے مطابق بیس گھنٹوں سے جاری جھڑپ میں مجاہدین شہید ہوئے اور علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے معلوم ہوا ہے کہ دونوں مکانوں کو مارٹر گولوں سے تباہ کر دیا گیا۔ ادھر جاری اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ مئی میں ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران دس بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا جبکہ مختلف علاقوں میںپر امن مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال اورپیلٹ گن سے فائرنگ کے نتیجے میں122کشمیری زخمی بھی ہوگئے جبکہ حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت177شہریوں کو گرفتارکیا گیا۔ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ تین رہائشی مکان بھی تباہ کر دیئے جبکہ ایک خاتون کی بے حرمتی کی گئی۔ ادھرمقبوضہ کشمیر میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے قابض انتظامیہ کی طرف سے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے خلاف دس روزہ جیل بھرو مہم پیر کوبھی جاری رکھی اور فرنٹ کے سینئر رہنما محمد یاسین بٹ کی قیادت میںمزید پارٹی رہنمائوں اور اراکین نے گرفتاریاں پیش کیں اور پنڈتوں کے لیے اسرائیلی طرز کی علیحدہ بستیوںکا قیام کشمیر دشمن ایجنڈے کا حصہ ہے اور کشمیری کسی صورت اس ایجنڈے کو نافذ نہیں ہونے دیں گے