عراق: خودکش حملہ، مسجد اور مارکیٹ پر بمباری، 38 پولیس اہلکاروں ، فوجیوں سمیت 83 ہلاک

بغداد (نوائے وقت رپورٹ + نیوز ایجنسیاں) عراق میں خودکش بم دھماکے اور دیگر پر تشدد واقعات میں پولیس اہلکاروں اور فوجیوں سمیت 83 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سامرہ میں داعش کے خودکش بمبار نے بارود سے بھرا ٹینک پولیس بیس سے ٹکرا دیا جس میں 38 پولیس اہلکار ہلاک اور 46 زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب فلوجہ میں فضائی کارروائی کے دوران ایک مسجد اور بازار کو نشانہ بنایا گیا جس میں 12 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوئے ہیں جبکہ صوبہ الانبار میں صادقیہ کے علاقے میں داعش اور سرکاری افواج کے درمیان لڑائی میں 33 عراقی فوجی اور ان کے معاون رضاکار بھی ہلاک ہو گئے۔ عراقی فضائیہ نے الانبار اور صلاح الدین صوبوں میں داعش کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کر کے ان کا مرکز اور گولہ بارود کا ذخیرہ تباہ کر دیا۔ انسانی امدادی ادارے عراق میں داعش اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے درمیان جنگ سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے پچاس کروڑ ڈالرز کی امدادی رقم اکٹھی کرنے کی غرض سے مہم شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یونیسیف نے عراق میں جنگ سے متاثرہ افراد کو خوراک اور ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لیے امدادی رقم کی اپیل کا اعلان کیا ہے۔ نمائندے فلپ ہیفنیک نے فرانس میں ایک بیان میں کہا ہے کہ عراق میں انسانی صورت حال تباہی سے دوچار ہے، ہمیں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں۔ ادھر رمادی کے قریب جھڑپ میں ایرانی فوجی مشیر جاسم نوری مارا گیا۔ داعش کے جنگجوؤں نے ترکی کی سرحد کے قریب واقع شہر سورن عزاز پر قبضہ کر لیا۔ عراقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق فلوجہ کے قریب ایک فضائی حملے میں داعش کے غیر ملکی شہریت رکھنے والے دو اہم کمانڈر ہلاک ہو گئے۔ بغداد میں دولت اسلامیہ کیخلاف فوج کے شابہ بشانہ لڑنے والی شیعہ ملیشیا نے بھی داعش جیسے مجرمانہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیئے، شیعہ ملیشیا ’’حشد الشعبی‘‘ نے ایک شہری کو پکڑ کر لٹکایا اور پھر اسے زندہ جلا ڈالا، جس پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ داعش نے شام میں پیشقدمی کرتے ہوئے مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے‘ 3 روز کی لڑائی میں 30 داعش کے جنگجو اور 45 باغی مارے گئے۔