صحافیوں پر حملوں کی تحقیقات کرائی جائے: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا وزیراعظم کو خط

لندن (بی بی سی + نیٹ نیوز) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں میں آئی ایس آئی کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات کی فوراً تفتیش کرائی جائے۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان میں تین برس قبل اغواء اور قتل ہونے والے صحافی سلیم شہزاد کی تیسری برسی کے موقع پر ایمنٹسی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے ایشیا پیسیفک ڈیوڈ گرفتھس نے کہا ہے کہ سلیم شہزاد کے اغواء اور قتل جیسے واقعات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے تفتیش اور ذمہ داروں کا احتساب کرنے میں ناکام ہو جانے ہی کی وجہ سے دراصل پاکستان میں آزاد ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے خلاف حملوں کو کھلی چھوٹ اور فروغ ملا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کے نام کھلے خط میں ایمنٹسی انٹرنیشل اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم دس دیگر تنظیموں نے زور دیا ہے کہ صحافیوں پر حملوں کے ذمہ دار افراد اور گروہوں کو حاصل کھلی چھوٹ ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جیسی جگہ سے سلیم شہزاد کا دن دہاڑے اغواء اور قتل ہو جانا پاکستان بھر میں روزانہ صحافیوں کے خلاف ہونے والے حملوں کے سلسلے کی کھلی مثال ہے۔ اس سلسلے میں حکام کی آئی ایس آئی کے افسروں سے تفتیش کرنے اور انہیں انصاف کے کٹہرے تک لانے میں ناکامی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ ڈیوڈ گرفتھس نے کہا کہ کئی ہفتوں سے جاری واقعات بھی اس صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں جس کا ان دنوں پاکستانی میڈیا کو سامنا ہے۔ صحافیوں پر حملوں کے ذمہ داروں کو کھلی چھٹی دینے سے صرف تشدد کو ہوا ملے گی۔ ڈیوڈ گرفتھس کا کہنا ہے کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صحافیوں پر ہونے والے ہر حملے کا ذمہ دار آئی ایس آئی کو ہی قرار دے دیا جائے لیکن اگر آئی ایس آئی کے اہلکار بیگناہ ہیں تو انہیں بھی تفتیش یا قانونی عمل سے نہیں گھبرانے چاہیے۔ اس وقت تک یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ صحافیوں کے خلاف اِن حملوں کا اصل ذمہ دار کون ہے جب تک ان کی غیر جانبدارانہ تفتیش نہیں ہوتی۔