بیرون ملک مقیم شہریوں نے ووٹ کاسٹ کرلیا،شام میں صدارتی انتخابات کل ہونگے

واشنگٹن/دمشق(این این آئی)شام کے صدارتی انتخابات کے لیے دنیابھر میں مقیم شامی شہریوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا،جبکہ شام میں کل(منگل کو)پولنگ ہوگی، امریکہ میں شام کے شہریوں نے اقوام متحدہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرکے امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کی۔ وائٹ ہاوس نے امریکہ میں شام کے سفارتخانے اور کونسل خانوں میں  ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی۔ مظاہرین نے صدر بشار اسد کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں، انہوں نے امریکہ اور اس کے پٹھوں کی  جانب سے دہشتگردوں کی مدد کی مذمت کی اور واشنگٹن کے اس اقدام کو تمام عالمی اصولوں اور قوانین کے خلاف قراردیا۔ اس مظاہرے میں اچھی خاصی تعداد شام کے عیسائی باشندوں کی تھی۔ مظاہرین نے کہا کہ امریکہ نے صیہونی حکومت کے ایما پر شام کے شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا ہے۔مظاہرین نے بعدازاں جاری ایک بیان میں کہاکہ امریکہ کو یکہ تازی اور دیگر قوموں کے حقوق پامال کرنے سے روکا جائے،ادھر شام میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کل(منگل کو)ہوگی،صدارتی انتخابات کے لیے شامی صدربشارالاسد کے علاوہ ان کے مدمقابل دو امیدوار ماہر عبدالحفیظ حجار اور حسن عبداللہ النوری ہیں  ،صدارتی انتخابات کے لیے کل چوبیس امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے لیکن ان میں سے زیادہ تر امیدوار انتخاب لڑنے کے لیے وضع کردہ معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے تھے اور دستوری عدالت عظمی نے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔بعد میں ان کی جانب سے دائر کردہ اپیلیں بھی مسترد کردی گئیں،شام میں عملی طور پر گذشتہ پچاس سال میں یہ پہلے صدارتی انتخابات ہوں گے جن میں ایک سے زیادہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں کیونکہ اس سے پہلے بشارالاسد اور ان کے والد حافظ الاسد ریفرینڈم نما انتخاب میں صدر بنتے رہے تھے بشارالاسد کے بارے میں توقع یہی ہے کہ وہ بآسانی جیت جائیں گے وہ 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں،ان کے مدمقابل حسن عبداللہ النوری امریکا سے تعلیم یافتہ ہیںوہ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور شامی حکومت کے لیے قابل قبول حزب اختلاف کا حصہ ہیں ماہر عبدالحفیظ الحجار شمالی شہر حلب سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ وہاں سے آزاد حیثیت میں رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے لیکن یہ دونوں امیدوار شامی عوام کے لیے کوئی زیادہ جانے پہچانے چہرے نہیں ہیں،شام میں گذشتہ تین سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی کے پیش نظر صرف حکومت کی عمل داری والے علاقوں ہی میں پولنگ ہوگی لیکن جنگ کے ماحول میں ہونے والی پولنگ کی اعتباریت اور ساکھ کے حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں،شامی حزب اختلاف نے ان انتخابات کو ڈھونگ قراردے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری ان کے نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی۔حزب اختلاف نے حکومت کے ساتھ مزید بات چیت اور تین سال سے جاری بحران کے حل کے لیے کسی حتمی معاہدے سے قبل بشارالاسد کی رخصتی کی شرط عاید کررکھی ہے،امریکا نے دمشق حکومت کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے فیصلے کو شام میں جمہوری انتقال اقتدار کے لیے طے پائے جنیوا اعلامیے کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ اور عرب لیگ بھی ان انتخابات کو مسترد کرچکی ہیں۔
بھارتی فوج نے نیپالی سرحد پر   5کشمیری اہلخانہ سمیت گرفتار کر لئے
سرینگر(آن لائن)آزاد کشمیر میں کئی برس گزارنے کے بعد پانچ کشمیری‘ ان کی تین بیویوں اور دس بچوں کو  بھارتی سرحدی فورسز نے نیپال  میں گورکھ پور سرحد کے قریب اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ باز آبادکاری اور سرینڈر پالیسی کے تحت واپس وادی لوٹ رہے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جن کشمیریوں کو سکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا ہے ان میں محمد الطاف راتھر سکنہ کپواڑہ‘ محمد اشرف خان سکنہ کیرن‘ نثار احمد بٹ سکنہ ودی پورا ہندواڑہ‘ نثار احمد راتھر سکنہ کرانکشون کالونی سوپور‘ توحید احمد خان سکنہ بٹہ مالو سرینگر شامل ہیں۔ کشمیری شہریوں کے ہمراہ ان کی تین بیویوں اور دس بچوں کو بھی فورسز نے حراست میں لے لیا اور گرفتار کرکے اٹھارہ افراد کو جموں و کشمیر پولیس کے حوالے کردیا۔