ملائیشیا کے تباہ ہونے والے بدقسمت طیارے میں ہلاک ہونے والے مزید تیرہ افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جس کے بعد سمندر سے ملنے والی لاشوں کی تعداد بائیس ہو گئی ہے، حادثے میں ہلاک ہونے والی ایک خاتون کی تدفین کردی گئی

ملائیشیا کے تباہ ہونے والے بدقسمت طیارے میں ہلاک ہونے والے مزید تیرہ افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جس کے بعد سمندر سے ملنے والی لاشوں کی تعداد بائیس ہو گئی ہے، حادثے میں ہلاک ہونے والی ایک خاتون کی تدفین کردی گئی

ملائیشیا کی پرواز کیو زیڈ ایٹ فائیو ون زیرو حادثے میں ہلاک ہونے والوں لاشیں نکالنے کیلئے بحریرہ جاوا میں سرچ آپریشن جاری ہے، درجنوں بحری جہاز کشتیاں اور ہیلی کاپٹر سرچ  آپریشن میں حصہ لے رہے ہیںحادثے میں ہلاک ہونے والے ایک سو باسٹھ افراد میں سے بائیس کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں،،،  ان میں ایک انچاس سالہ خاتون حیاتی لُطفیہ حامد بھی شامل ہیں جنہیں انڈونیشیا کے شہر سورا بایا میں سپرد خاک کیا گیا۔، ان کی تدفین کے موقع پر رقعت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، لواحقین پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے، آخری رسومات میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی، حکام کے مطابق غوطہ خوروں کی کوشش ہے کہ جہاز کے بلیک باکس جلد از جلد  حاصل کیے جائیں۔ تلاش کی ان سرگرمیوں میں انڈونیشیا کے علاوہ ملائشیا، سنگاپور اور امریکا کی کشتیاں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ جہاز کے ملبے کے کئی حصے مل گئے ہیں، جن میں پروں کے حصے بھی شامل ہیں۔ لیکن پانچ دنوں پر محیط تلاش کی بڑی کارروائی کے باوجود ابھی تک جہاز کا مرکزی حصہ جہاں مسافر بیٹھتے ہیں نہیں ڈھونڈا جا سکا۔ حکام کا اندازہ ہے کہ اکثر مسافروں کی لاشیں اس کے اندر ہوں گی۔ یاد رہے کہ  ایئربس تھری ٹو زیرو ٹوہنڈریڈ اتوار کے روز انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گئی تھی اور اس میں سوار ایک سو باسٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے