کولوراڈو کی دکانوں میں گانجے کی فروخت شروع، پہلی امریکی ریاست بن گئی

کولوراڈو کی دکانوں میں گانجے کی فروخت شروع، پہلی امریکی ریاست بن گئی

نیویارک (بی بی سی) امریکی ریاست کولوراڈو کی دکانوں پر یکم جنوری 2014 سے گانجے کی فروخت کی اجازت سے ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے۔ کولوراڈو یہ قدم اٹھانے والی پہلی امریکی ریاست بن گئی ہے۔ کولوراڈو اور واشنگٹن کی ریاستوں نے 21 نومبر 2012 کو 21 برس سے زیادہ عمر کے افراد کے گانجا رکھنے اور اسے استعمال کرنے کو قانونی قرار دے دیا تھا۔ کولوراڈو کے برعکس واشنگٹن میں اس کی فروخت 2014 کے وسط سے قبل شروع نہیں ہوگی۔ یہ دونوں ریاستیں ان 20 امریکی ریاستوں میں بھی شامل ہیں جو گانجے کی طبی مقاصد کے لیے فروخت کی بھی منظوری دے چکی ہیں تاہم امریکہ کے وفاقی قانون کے تحت تاحال یہ غیرقانونی ہے۔ جن دکانوں پر گانجا فروخت ہوگا وہاں کے مالکان نے فروخت کے آغاز کو گانجے کے سبز رنگ کی مناسبت سے ’گرین وینزڈے‘ یا سبز بدھ کا نام دیا ہے۔ مالکان نے اس موقع پر سکیورٹی کے مزید انتظامات بھی کیے ہیں تاہم ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ ردعمل کس قسم کا ہوگا۔ ریاستی دارالحکومت ڈینور کے نواحی علاقے نارتھ گلین کے دکاندار رابن ہیکٹ کا کہنا ہے کہ یہ پاگل پن بھی ہو سکتا ہے۔ کون جانے کیا ہوگا؟ آج سے قبل ایسا ہوا جو نہیں ہے۔ نئے قوانین کے تحت گانجا الکحل کی طرح فروخت کیا جائے گا اور جہاں مقامی گاہک ایک اونس تک گانجا خرید سکیں گے وہیں ریاست سے تعلق نہ رکھنے والے افراد ایک چوتھائی اونس گانجا ہی خرید پائیں گے۔ قانون کے مطابق گانجا صرف نجی مقامات پر ہی پیا جا سکے گا اور اس کے لیے بھی صاحبِ خانہ کی اجازت ضروری ہوگی۔