ساری ذمہ داریاں پاکستان کے کندھوں پر آ جائینگی‘ افغانستان سے مکمل امریکی انخلاء نہیں چاہتے: جلیل عباس جیلانی

واشنگٹن (ثناء نیوز) امریکہ میں پاکستان کے نئے سفیر جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان, افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا خواہشمند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انخلا کے حوالے سے صرف باتوں کے بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور پاکستان میں پہلے سے زیادہ بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات مضبوط بنانا میری اولین ترجیح ہوگی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں دفاع ، سکیورٹی اور توانائی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بھی توجہ دوں گا۔ ایک سوال پر سفیر نے کہا کہ افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کا انخلاء سودمند نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی باتوں کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور پاکستان میں پہلے سے زیادہ افغان مہاجرین آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے لوگ خوف کا شکار ہیں۔ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ افغانوں کا اپنی قیادت میں مفاہمتی عمل افغانستان میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح عالمی معاشی طاقتوں سے تجارتی اور معاشی تعلقات مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت سے تعلقات میں جس دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس کا فائدہ اٹھائے۔ 'اگر انہوں نے اس کا فائدہ نہ اٹھایا تو وہ ایک بڑا موقع گنوا دیں گے۔ سفیر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ 2014ء جنوبی ایشاء میں امریکی کردار کو پرکھنے کے لئے انتہائی اہم سال ثابت ہو گا لیکن فی الحال اس حوالے سے کسی بھی قسم کی پیش گوئی قبل از وقت ہے۔ 'اگر ایک بڑی تعداد میں افواج کا انخلا ہوتا ہے تو اس سے زیادہ تر ذمے داری ہمارے کندھوں پر آ جائے گی، جو سکیورٹی ذمے داریاں پہلے دیگر لوگوں نے بانٹی ہوئی تھیں، اب وہ مکمل طور پر پاکستان تک منتقل ہو جائیں گی جو ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ امریکہ انٹیلی جنس کی حالیہ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان افغانستان میں ایک اہم عنصر ہیں اور اب تک طالبان اور دیگر فریقین کے درمیان مفاہمت کی تمام تر کوششوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔