شامی وزیراعظم نے بشار الاسد کے استعفیٰ کا مطالبہ مسترد کر دیا ‘ بمباری ‘ جھڑپوں میں 54 ہلاک

دمشق(این این آئی‘ نوائے وقت رپورٹ)شام کے وزیر اعظم وائل الحلقی نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری فوج باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں جیت رہی ہے اور وہ آخری دشمن جنگجو کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شام کے وزیراعظم وائل الحلفی نے صدر بشار الاسد کے استعفے کے مطالبے کو مسترد کردیا اور کہا کہ دھمکیوں اور ڈرانے دھمکانے کا دور لد چکا اور اب یہ واپس نہیں آئے گا جبکہ اب شام میں فتح اور فخر کے دور کا ظہور ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ شامی حکومت اپنی سرزمین پر کسی ایک دہشت گرد کو بھی ٹھہرنے کی اجازت نہیں دے گی۔درایں اثناء شامی فوج نے دارالحکومت دمشق سے شمال میں واقع علاقے میں باغی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 22افرادہلاک اور70سے زائد زخمی ہوگئے،شامی فوج اور اس کی اتحادی حزب اللہ کے جنگجو قلمون کے پہاڑی علاقے میں باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔شامی کارکنان کی اطلاع کے مطابق جنگی طیاروں نے دمشق اور وسطی شہر حمص کے درمیان مرکزی شاہراہ پر واقع قصبے نبک پر بمباری کی۔مشرقی غوطہ کے نام سے معروف اس علاقے میں فریقین کے درمیان گذشتہ چند روز سے جاری لڑائی میں دونوں طرف سے32 افراد مارے گئے ۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق گزشتہ تین دنوں میں شام کے مختلف علاقوں میں جھڑپوں میں 600افراد مارے جاچکے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر مشرقی غوطہ اور قلمون میں سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں مارے گئے ادھر لبنان میں سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس تازہ لڑائی میں حزب اللہ کے پچیس جنگجو بھی ہلاک ہوئے ۔آبزرویٹری نے عیسائی آبادی والے قدیم قصبے ملولا میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز اور القاعدہ سے وابستہ شامی تنظیم النصرت محاذ کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کی بھی اطلاع دی ۔