قطر میں دفتر کیلئے شرائط....طالبان القاعدہ سے تعلقات ختم‘ دہشت گردی روک دیں : افغان حکومت

قطر میں دفتر کیلئے شرائط....طالبان القاعدہ سے تعلقات ختم‘ دہشت گردی روک دیں : افغان حکومت

کابل ( نیوز ایجنسیاں) افغان حکومت نے کہا ہے کہ طالبان قطر کے دفتر کے لئے القاعدہ کے ساتھ تمام تعلقات اور دہشت گردانہ کارروائیاں ختم کردےں۔ ادھر ایک سینئر امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ طالبان نمائندے 30 سے زیادہ ممالک کے نمائندوں سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ انکے بالواسطہ مذاکرات امریکہ سے بھی جاری ہیں۔ مےڈےا رپورٹس کے مطابق کابل حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان قطر میں دفتر کھول سکتے ہیں لیکن یہ دو شرائط ہیں ۔ طالبان کو امن مذاکرات براہ راست کابل حکومت اور اعلی سطحی امن کونسل سے کرنا ہوں گے۔ صدر کرزئی کی اس خواہش کے برعکس طالبان کابل حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لئے رضا مند نظر نہیں آتے۔طالبان نے صدر کرزئی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کی کٹھ پتلی ہیں۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ قطر میں طالبان کے دفتر کے افتتاح سے کرزئی کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ معاملہ طالبان اور قطر حکومت کے درمیان ہے۔ اگر کرزئی قطر کا دورہ کرتے ہیں تو ہمارے لئے باعث تشویش نہیں۔ ہمارے قطر میں پہلے سے موجود نمائندے ان سے ملیں گے نہ ہی مذاکرات کریں گے۔طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ صرف امریکہ کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بھی طالبان قطر میں امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کرتے رہے ہیں۔ ماضی میں طالبان کے نمائندے مختلف ممالک کے نمائندوں سے بیک چینل مذاکرات اور نجی ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہیں۔ ادھر افغان صدر کرزئی قطرے کے دورے سے وطن واپس پہنچ گئے۔
افغان حکومت