کابینہ کی تشکیل نو میں اوباما کو شدید مشکلات، ریپبلکن پارٹی رکاوٹیں پیدا کرنے لگی

کابینہ کی تشکیل نو میں اوباما کو شدید مشکلات، ریپبلکن پارٹی رکاوٹیں پیدا کرنے لگی

 لندن (خصوصی رپورٹ / خالد ایچ لودھی) صدر بارک اوباما کو امریکی صدارتی انتخابات میں دوسری مرتبہ کامیابی کے بعد اپنی کابینہ تشکیل دینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں ریپبلکن پارٹی رکاوٹیں پیدا کررہی ہے۔ وائٹ ہاﺅس میں صدر اور نائب صدر کے بعد تیسرا انتہائی اہم عہدہ وزیر خارجہ کا ہوتا ہے ہلیری کلنٹن کی جگہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس جوکہ وزیر خارجہ کے عہدے پر صدر اوباما کی پسندیدہ شخصیت ہیں ان کی تقرری پر امریکی سینٹ میں ریپبلکن پارٹی کی سوزن کولنز اور باب کروکر جوکہ خارجہ امورکی سینٹ کمیٹی کے سربراہ کی دوڑ میں شامل ہیں دونوں نے سوزن رائس کی تقرری کی مخالفت کردی ہے لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکہ کے سینئر سفارت کار سٹیونز کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت پر سوزن رائس نے امریکی عوام کو اصل حقائق سے آگاہ نہیں کیا یہی وجہ ان کی تقرری کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے جبکہ امریکی وزیر خزانہ ٹموتھی گھیتنر اور وزیر دفاع لیون پنیٹا دونوں ہی اپنی وزارتوں پر برقرار رہیں گے۔ اس کے علاوہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے مستعفی ہونے کے بعد سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدے پر قائم مقام ڈائریکٹر مائیکل مورال اور امریکی پینٹاگون میں اعلی انٹیلی جنس آفیسر مائیکل وکر دونوں ہی اس عہدے کے امیدوار ہیں ان حساس عہدوں پر تقرریوں کیلئے صدر بارک اوباما نے ریپبلکن صدارتی امیدوار مٹ رومنی سے مشاورت کا عمل شروع کردیا ہے۔