شامی اپوزیشن کاقاہرہ میں اہم اجلاس ‘ عبوری حکومت کے قیام کے لئے پیشرفت ‘ اخوان المسلمین بادشاہ کی صورت اختیار کر گئی

قاہرہ (رائٹرز) شامی اپوزیشن کی قاہرہ میں ہونے والی پہلی میٹنگ کے دوران عبوری حکومت کے قیام کیلئے پیشرفت ہوئی ہے جبکہ اس اجلاس میں اخوان المسلمین ایک طاقتور بادشاہ گر کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اجلاس کے دوران اخوان المسلمین اور اس کے اتحادی اپوزیشن رہنما¶ں نے ایسے داخلی آئین کی منظوری پر زور دیا جس میں وزیراعظم اور کابینہ کا انتخاب دوتہائی اکثریت کی بجائے سادہ اکثریت سے عمل میں آ جائے گا۔ اجلاس میں شامل ایک نمائندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عبوری حکومت کے قیام سے شام میں 4 دہائیوں سے بشار الاسد اور اس کے مرحوم والد حافظ الاسد کی ڈکٹیٹرشپ کے خاتمے کیلئے 20 ماہ سے جاری مغربی حمایت یافتہ انقلاب کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ اجلاس میں شریک ایک آزاد نمائندے نے بتایا کہ جس طرح سے عبوری حکومت کے قیام عمل میں لایا جا رہا ہے یہ شام کے جمہوری مستقبل کیلئے درست نہیں ہو گا۔ ایک اور نمائندے کے مطابق مغرب کی طرف سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ مغرب بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی کی صورت میں شام میں استحکام کیلئے اخوان المسلمین کی حکومت بھی تسلیم کرنے کو تیار ہے۔ مغرب نے مصر میں جو کچھ ہوا اس سے سبق نہیں سیکھا۔ مجھے ڈر ہے کہ جمہوریت کی بجائے شام بھی ایران بن جائے گا۔