سی آئی اے پر امریکی سائنسدان کو ہلاک کرنے کا الزام، عدالت میں بیٹے کی درخواست

لندن (تحقیقاتی رپورٹ / خالد ایچ لودھی) دنیا کے مختلف ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں میں سی آئی اے کے تفتیشی مراکز میں ٹارچرسیل کام کر رہے ہیں جن میں نہ صرف غیر ملکیوں بلکہ خود امریکی شہریوں کو بھی انسانیت سوز مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ دنوں واشنگٹن ڈی سی کی عدالت میں امریکی سائنس دان ڈاکٹر فرینک اولسن کے خاندان نے قانونی درخواست دائر کی ہے ڈاکٹر فرینک اولسن کے بیٹے نے قانونی درخواست دائر کرتے ہوئے امریکی سی آئی اے پر الزام عائد کیا ہے کہ انکے والد ڈاکٹر فرینک اولسن کو امریکی سی آئی اے نے تشدد کرکے مبینہ طور پر اس وقت ہلاک کردیا جب ڈاکٹر فرینک اولسن کو یہ علم ہوا کہ امریکی سی آئی اے ناروے اور جرمنی میں اپنے تفتیشی مراکز میں انسانیت سوز مظالم کے ذریعے بے شمار شہریوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ ڈاکٹر فرینک اولسن کے بیٹے نے دعویٰ کیا ہے کہ انکے والد کو 1953ءمیں امریکی سی آئی اے نے مبینہ طور پر برانڈی کے گلاس میں LSD ڈال کر پلائی اور پھر تشدد کے بعد ہلاک کردیا۔ امریکی سائنس دان ڈاکٹر فرینک اولسن کے بیٹے نے برطانیہ کے PORTON DOWN ریسرچ یونٹ جو کہ WILTSHIR میں واقع ہے اس کے دورہ کے دوران یہ خفیہ رپورٹ حاصل کی اس واقعہ پر برطانوی وزارت دفاع نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔