سرینگر: کرفیو کے باوجود مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے‘ ریلیاں

سرینگر (کے پی آئی) کشمیر میں جمعہ کو سرینگر کے 9 تھانوں میں سخت ترین کرفیو کے نفاذ سے وسیع آبادی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بھی معمولات زندگی پر اثر پڑا جہاں کرفیو نافذ نہیں تھا۔ سری نگر کے ذےلی علاقوں مےں جمعہ کو زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ جمعرات کی صبح جب لوگ نیند سے بیدار ہوئے تو انہوں نے اپنے علاقوں کو فورسز کے سخت محاصرے میں پایا۔ سیول لائنز اور شہرکے دیگر علاقوں میں کاروباری اور معمول کی سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ تعلیمی ادارے، تجارتی مراکز اور سرکاری دفاتر میں بھی حاضری برائے نام رہی۔ تاہم اس دوران شہر سرینگر کو باقی اضلاع سے ملانے والی سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت معمول کے مطابق رہی۔ کرفیو زدہ علاقوں کے لوگوں کو ناشتے کے لئے بازار سے دودھ روٹی لانے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ انہیں نزدیکی مساجد میں نماز ادا کرنے کیلئے گھروں سے باہر آنے دیا گیا۔ پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں سخت پابندیاںعائد کی گئی تھیں جبکہ حساس علاقوں کو مکمل طور سیل کرکے ان علاقوں کی طرف جانے والی تمام سڑکوں اور گلی کوچوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ شہریوں کو اپنے ہی گھروں کے اندر قیدی بنا کر رکھا گیا تھا جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اپنے گھروں کے اندر محصور ہو کر رہ گئے۔ سخت بندشوں، بارشوں اور سردیوں کے باعث لوگوں نے گھروں کے اندر ہی رہنے کو ترجیح دی۔