روس میں کرپشن کیخلاف مہم پیوٹن کو کہیں لے نہ بیٹھے: تجزیہ کار

ماسکو (اے ایف پی) روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے جب وزیر دفاع اناطولی سرڈیکوف کو برطرف کیا تھا تو اس وقت روس کے عوام پر سکتہ طاری ہو گیا تھا کیونکہ اس سے قبل کبھی روس کے مرد آہن نے اتنے بڑے عہدے پر فائز سرکاری عہدیدار کو برطرف نہیں کیا کیونکہ وہ اعلیٰ حکام کو ہٹانے کو پسندیدہ عمل نہیں سمجھتے۔ کریملن کے حامی ٹی وی کے صحافی آرکیڈی کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف ایک کٹھن اور سودے بازی سے دور لڑائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف مہم بیوروکریٹس کو الگ تھلگ کر دے گی جس کے نتیجہ میں پیوٹن کو نقصان پہنچے گا۔ انڈیم تھنک ٹینک کے سربراہ سٹاروف نے کہا ہے کہ پیوٹن اشرافیہ کے ساتھ غیررسمی معاہدے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجہ میں بیوروکریٹس کو دولت مند بننے کا موقع ملا ہے اور اس کے بدلے وہ صدر سے وفاداری نبھاتے ہیں لیکن اب اس قسم کی صورتحال میں اشرافیہ انتظامیہ کو دھڑام سے گرا سکتی ہے۔