امریکی سینٹ نے ایران کیخلاف نئی پابندیوں کا بل منظور کر لیا

امریکی سینٹ نے ایران کیخلاف نئی پابندیوں کا بل منظور کر لیا

واشنگٹن (نوائے وقت رپورٹ) امریکی سینٹ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا بل منظور کر لیا ہے۔ ایران کے خلاف نئی پابندیاں توانائی کے شعبے سے متعلق ہیں، پابندیوں کے حق میں 94ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔ مجوزہ نئی پابندیوں کے تحت ایران میں نشریاتی اداروں کے دیگر ممالک کے ساتھ روابط‘ کاروبار اور تعاون کو روکنے کے لئے ان کے اثاثے منجمد کردیئے جائیں گے۔ ایران کو مختلف اشیاءبرآمد کرنے کے لئے کشتی رانی‘ توانائی‘ تیل اور دیگر شعبوں کے کاروبار کو روکنے کے لئے تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کو خاموش کرنے کے لئے سیٹلائٹ کمپنی کو بلیک لسٹ کیا جائے گا۔دریں اثناءامریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مارچ تک اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے ساتھ تعاون نہ کیا تو وہ غیرمعمولی اقدام کے طور پر اس کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جائے گا۔ عالمی جوہری توانائی ادارے کے لئے امریکہ کے نمائندہ رابرٹ ووڈ نے کہا مارچ تک ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ ذاتی طور پر تعاون کا آغاز نہ کیا تو امریکہ بورڈ میں شامل دیگر ممالک کو اس کے خلاف مناسب کارروائی کیلئے قائل کرنے پر کام کرے گا۔ آئی اے ای اے کے بند کمرے میں ہونیوالے اجلاس کے لئے تیار شدہ بیان کے مطابق انہوں نے کہاکہ امریکہ اس صورت میں آئی اے ای اے کے بورڈ پر زور دے گا کہ وہ اس عدم پیشرفت پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رجوع کرے ۔آئی اے ای اے چاہتا ہے کہ ایران، اس کے بقول 2003ءتک اور ممکنہ طور پر جوہری بم کی تیاری کے حوالے سے اس کے بعد سے کی جانیوالی سرگرمیوں سے متعلق ٹھوس ثبوت کا معاملہ حل کرے ۔ایران کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کے ثبوت امریکہ اور اسرائیلی خفیہ اداروں کی طرف سے زیادہ تر معلومات کی بنیاد پر ہےں۔