لیڈی ہیلتھ ورکرز سے زیادتی کے 4 ملزموں کے انجام سے ورکنگ وویمن کو تحفظ ملا

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
لیڈی ہیلتھ ورکرز سے زیادتی کے 4 ملزموں کے انجام سے ورکنگ وویمن کو تحفظ ملا

    گجرات :گجرات کے قصبہ بھیلووال کے بنیادی مرکز صحت میں 7ڈاکوﺅں کے ہاتھوں ساری رات درندگی کا نشانہ بننے والی ہیلتھ ورکرز کے 4ملزمان کو پولیس نے انہیں انکے انجام تک پہنچادیا اور ڈی پی او گجرات سہیل ظفر چٹھہ نے ضلع بھر ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب اور بیرون ملک بسنے والے گجرات کے لوگوں کی شاباش حاصل کی وہاں انکے عزت و احترام میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ڈی پی او نے وقوعہ رونما ہونے کے بعد سے لےکر دن رات ایک کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک دے رکھا تھا اور چند ہی روز میں مظلوم خواتین کو انصاف فراہم کر کے ثابت کیا کہ ضلع کی پولیس کا سربراہ جاگ رہا ہے اور وہ کسی کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ لوگوں کی عزت و جان سے کھیلیں اور اُن تمام خواتین جو ضلع بھر کے مختلف شعبہ جات میں ملازمت کرتی ہیں اس واقعہ کے بعد انکے لواحقین خوف اور کرب کی کیفیت میں مبتلا تھے کو تحفظ کا احسان دلاکر انہیں پیغام دیا کہ بے خوف و خطر ضلع بھر کی خواتین اپنے روز مرہ کے امور سرانجام دے سکتی ہیں یہ واقعہ قصبہ بھیلوال میں 15روز قبل رونما ہوا جو محکمہ صحت کے سربراہان اور دیگر انتظامی آفیسران کی غفلت اور لاپرواہی کیوجہ سے اسے سیکورٹی گارڈ مبشر کو مدعی بنا کر اس واقعہ کے اصل حقائق کو دبانے کی کوشش کی گئی حالانکہ ہونا تو چاہے تھا کہ اس واقعہ کا مدعی محکمہ صحت کا سربراہ خود بنتا اور متاثرین کا ساتھ دیتا لیکن ضلع گجرات کی بیشتر آبادی دیہی علاقوں پر مشتمل ہے جسمیں 90بی ایچ یو مراکز ہیں جو 24گھنٹے چلتے ہیں اسی طرح 8آر ایچ سی سنٹر میں لیڈ ی ڈاکٹرز سمیت دیگر خواتین کا عملہ بھی تعینات ہوتا ہے تقریبا چار ہزار سے زائد عملہ وہاں ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے جن کی اکثریت دیہات میں فرائض سرانجام دے رہی ہے پہلے ہی دور دراز کے علاقوں میں خواتین جانے کو تیار نہیں ہیں لیکن اس واقعہ نے تو بالکل جواز پید ا کر دیا کہ لوگ دور دراز کے علاقوں میں یا تو مجبورہو کر ملازمت چھوڑ دیں یا تعینات ہی نہ ہوں  لیکن ملزمان کے انجام کو پہنچنے کے بعد خوف وہراس کم ہوا ہے سرگودھا کے رہائشی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونیوالے ملزم محمد ارشد جہلم اور دیگر اضلاع میں بھی دوران ڈکیتی ریپ کی وارداتیں کی تھیں جبکہ بعض وارداتیں ایسی بھی ہوں گی جو پولیس اور شہریوں کی نظروں سے عیاں ہیں واردات کرنیوالے ڈاکو لیاقت علی ساکن میونووال ، حسنین علی ساکن بھیلووال ، افتخاراحمد ساکن مہوٹے کلاںسمیتاس قماش کے لوگوں کےلئے ڈی پی او گجرات کا طاقتو ر پیغام ہیں کیونکہ جب سے وہ گجرات میں تعینات ہوئے ہیں ابتک 11کے قریب خطرناک ملزمان اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں اس موقع پر ایس ایچ او کنجاہ ملک صفدر کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی جنہوں نے اپنا علاقہ نہ ہو کر دوسرے تھانے کے علاقہ میں جا کر ان ملزما ن کو نہ صرف تلاش کیا بلکہ گرفتار کیا انکے اس عمل کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے ضلع کے مختلف مکاتب فکر کی جانب سے جہاں پولیس تنقید کا سامنا کرتی ہے وہا ں انکے اس اقدام کو شاندار خراج تحسین بھی پیش کیا ہے او رمطالبہ کیا ہے کہ اس بہادر آفیسر کو انعام واکرام سے بھی نوازا جائے تاکہ اس طرح کے آفیسروں کی حوصلہ افزائی بھی ہو سکے تاہم محکمہ صحت کے بڑوں کو بھی ہوش آئی تو صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران ، سیکرٹری علی جان نے بی ایچ یو کا دورہ کر کے اس واقعہ کو اعلیٰ حکام سے چھپانے کی پاداش میں ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر الطاف حسین ، ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد علی مفتی ، ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر یوسف تارڑ کو معطل کر کے انکے خلاف محکمانہ انکوائری کے احکامات جاریکردیے لیکن متاثرہ خواتین پر دست شفقت رکھنا اورکسی طرح کی مالی امداد کا اعلان کرنے کی زخمت گوارہ نہ کرنا افسوسناک اور وزیر صحت ، سیکرٹری صحت کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے45کلو میٹر کے فاصلے پر گوجرانوالہ ضلع میں بیٹھے ہوئے کمشنر نے بھی دورہ نہ کیا حالانکہ چھوٹی سے چھوٹی افتتاحی تقریب میں شمولیت سے غیر حاضر نہیں رہتے وزیراعلیٰ پنجاب کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی پہلی فرصت میں متاثرہ خواتین کے گھر جاکر نہ صرف انہیں مالی مدد دیں بلکہ انکی دل جوئی بھی کریں تاکہ سرکاری محکموں کے چھوٹے ملازمین کی حوصلہ افزائی ہو سکے