پروگرام دوں گا‘ عوام موجودہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں: نوازشریف

گجرات/ لالہ موسیٰ (نامہ نگاران) سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی۔ پہلے صدر، پھر مشرف اور اب ججز نے مجھے فارغ کیا، کیا عوام کے ووٹ کی کوئی وقعت نہیں، کیا ظلم کا مقابلہ کروں یا چپ کر کے گھر بیٹھ جائوں، کیا آپ نے عدالت کا فیصلہ قبول کیا، میری اپیل عوام کی عدالت میں ہے، مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا گیا، کروڑوں لوگوں نے منتخب کیا پانچ ججز نے نکال دیا، میں نے قومی خزانے کو امانت سمجھا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام اب نہیں چل سکتا، حاکمیت کا حق عوام کا ہے اور عوام سے یہ حق کوئی نہیں چھین سکتا، یہ 20 کروڑ عوام کی عزت کا معاملہ ہے، میں عوام کی عزت کو روندنے نہیں دوں گا، پورے پاکستان کی یہی آواز ہے، کوئی سن سکتا ہے توسن لے ملک کو بدلنا ہو گا، اس قوم کو بدلنا ہو گا، عوام موجودہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تا کہ کوئی آپ کے ووٹ کی پرچی کو پھاڑ کر آپ کے ہاتھ میں نہ تھمائے،70 برس سے ملک کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے، آپ کو میرا ساتھ دینا ہو گا۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ بتایا جائے نواز شریف نے کون سی کرپشن کی؟ آپ کے ووٹ کو پیروں تلے روندا گیا، کروڑوں لوگوں نے وزیراعظم منتخب کیا، پانچ لوگوں نے رسوا کرکے باہرنکال دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا انہیں آرام سے گھر بیٹھ جانا چاہیے یا ظلم کے خلاف لڑنا چاہئے؟ میں یہ مذاق برداشت نہیں کر سکتا، نواز شریف آپ کی عدالت میں حاضر ہے، میری اپیل آپ کی عدالت میں ہے، سارے پاکستان کا یہی عالم ہے، کوئی سن سکتا ہے تو سن لے، اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ نوازشریف کیساتھ ہورہا ہے۔ نوازشریف نے کہا کہ خیبر پی کے کے آدمی نے کہا تھا کرائے کے عوام آتے ہیں، بتاؤ کیا تم کرائے کے عوام ہو، روز جھوٹ بولتا ہے، الزام تراشی اس کی فطرت میں ہے، جس والہانہ طریقے سے میرا استقبال کیا، گجرات والوں کو سلام، لوڈشیڈنگ والو! آپ نے پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کیا، ہم نے دن رات ایک کرکے کام کیا، اگلے سال اس ملک سے لوڈشیڈنگ رخصت ہوجائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما ماوری میمن پرجوش کارکنوں کے ساتھ نعرے بازی میں پیش پیش رہیں اور گاڑی پر چڑھ کر نعرے لگواتی رہیں۔ لالہ موسیٰ سے نامہ نگار کے مطابق نواز شریف نے اپنے انتہائی مختصر خطاب میں کہا کہ ایک فیصلہ عدالت نے سنایا اور ایک فیصلہ عوام نے دیا۔ انہوں نے عوام سے سوال کیا آپ کا فیصلہ ہے تو لوگوں نے ہاتھ اٹھا کر اظہار یکجہتی کیا۔ بی بی سی کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ عوام میرے پیغام کا انتظار کریں۔ میں نہیں کہہ رہا کہ آپ مجھے دوبارہ وزیر اعظم بنائیں لیکن حق حکمرانی آپ کا ہے، اس حق کو آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا، اللہ آپ کا حامی ناصر ہو، اللہ ہم سب کے ساتھ ہے، میں ایک معصوم آدمی تھا، کیا اس معصوم آدمی کا ساتھ دو گے، کیا میرا ساتھ دو گے جب آواز دوں گا تو آئو گے، عوام موجودہ نظام کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہماری ریلی کا مقصد کسی ادارے کیخلاف احتجاج نہیں بلکہ ہم اپنے قائد کو گھر چھوڑنے جارہے ہیں۔ وفاقی وزیرمملکت پورٹ اینڈ شپنگ چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 2013 میں جو منشور دیا تھا 28جولائی 2017کے بعد بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ قافلہ گجرات شہر میں داخل ہوتے ہی ہزاروں افراد نے سابق وزیراعظم کا بھرپور استقبال کیا۔ پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ گجرات پہنچنے کے بعد میاں نواز شریف نے جامع مسجد گلوبل فرنیچر فیکٹری میں نماز جمعہ ادا کی۔ سیالکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق لاہور روڈ پر کامونکی انٹرچینج پر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے قافلے کے استقبال کے لیے سیالکوٹ سے مسلم لیگ (ن) کا قافلہ (آج) صبح آٹھ بجے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی قیادت میں مسلم لیگ ہائوس پیرس روڈ سے جائے گا۔ مریدکے سے نامہ نگار کے مطابق سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی ریلی کی مریدکے آمد پر وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین اور وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال ہزاروں کارکنوں کے ہمراہ نارووال چوک پر ان کا استقبال کریں گے۔ نواز شریف نے گوجرانوالہ میں خطاب کے دوران گاڑی تلے آکر جاں بحق ہونے والے بچے کے ورثا سے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج راستے میں ایک حادثہ ہوا میرا ایک کارکن جاں بحق ہوا اس کارکن کے گھر خود جائوں گا جو مدد ہوسکے گی زندگی بھر کیلئے وہ مدد پیش کروں گا۔ یہ ہماری جدوجہد کا پہلا شہید ہے، اللہ تعالیٰ بچے کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور بچے کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ قافلہ آج لاہور پہنچ جائے گا۔
نواز شریف

گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی )سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان چند مخصوص لوگوں کا نہیں ‘ یہ 20 کروڑ عوام کا ملک ہے‘کسی کو پاکستان کی تقدیر سے کھیلنے نہیں دینگے ہم عوام کیساتھ ملکر پاکستان کو سنبھالیں گے ، جب تک پاکستان کو اصلی پاکستان نہیں بنا دیتا چین سے نہیں بیٹھوں گا ،آپ کے پاس خود کو بحال کروانے نہیں بلکہ پاکستان کے عزت اور وقار کیلئے آیا ہوں ، پاکستان کے مالک 20 کروڑ عوام ہیں، آپ نے وزیر اعظم بنایا انہوں نے نکال دیا ، لیکن مجھے آپ کے دلوں سے نہیں نکال سکتے ، دنیا مان رہی تھی پاکستان ترقی کر رہا ہے ، مجھے کیوں نکالا گیا ،پاکستان کی روشنیاں واپس آرہی تھیں ، لوڈشیڈنگ، بیروز گاری کا خاتمہ ، ملک ترقی کی طرف جا رہا تھا، پاکستان کے اندر امن قائم ہو رہا تھا ، یہ مخالفین کو برداشت نہیں ہوا ، انہوں نے دھرنے شروع کردئیے۔ انہیں خوف تھا کہ نواز شریف کا میاب ہو گیا تو دوبارہ اسکی حکومت آجائے گی اور ہماری پاکستان میں سیاست نہیں رہے گی ، اس وجہ سے ساڑھے تین سال سے سازشیں ہورہی تھیں ۔ ترقی تیز ہیں‘ پر سازشیں تیز ہو گئیں۔ گوجرانوالہ میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے مجھے نکالا یہ وہ بھی مانتے ہیں نوازشریف نے کرپشن نہیں کی، پھر پوچھا جائے نواز شریف کو کیوں نکالا، میں نے پاکستان سے کون سی غداری کی جب سے پیدا ہوا ہوں پاکستان کا وفا دار ہوں۔ انکا کہنا تھا کہ میں نے ایٹمی بٹن دبایا، ایٹمی قوت بنانے والے وزیراعظم کے ساتھ ایسا کیا جاتا ہے؟ 70 برس سے جو بھی وزیراعظم آیا اسے ذلیل اور رسوا کر کے با ہر نکالا گیا،کسی کو پھانسی، ہتھکڑی اور جیلوں میں ڈال دیا گیا ، کیا وزراء اعظم کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا رہے گا، 70سالوں سے تماشا لگا ہو ، پاکستان کی تاریخ میں18 وزیر اعظم مدت پوری کرنے سے قبل ہٹائے گئے اور ہر وزیراعظم کے حصے میں ڈیڑھ سال آیا جبکہ صرف تین ڈکٹیٹر 30سال حکومت کر گئے، وہ آپ کے ووٹ کو غضب کر گئے، انہوں نے کہا فیصلہ دینے والو قوم نے فیصلہ تسلیم نہیں کیا، وہ سمجھتے تھے کہ فیصلہ کے بعد نوازشریف گھر بیٹھ جائے گا نواز شریف بیٹھنے والا نہیں‘ ایسے فیصلے پاکستان کو پچاس سال پیچھے کر دیتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ آپ ووٹ دیتے ہیں اس ووٹ کی پرچی کو پائوں کے نیچے روند دیا جاتا ہے، میرا ساتھ دو ووٹ کا احترام ، ظلم ختم اور ترقی عروج پر جائیگی ،سی پیک مثالی منصوبہ جو پاکستان کی قسمت بدلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا میں نے کوئی کرپشن کی رشوت لی یا کوئی کمیشن لی تھی؟ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کارکنوں سے ایک عہد بھی لیا کہ جب میں اپنا پروگرام پیش کروں گا تو آپ میرا ساتھ دیں گے۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ میرے خلاف فیصلہ سنانے والو عوام کا فیصلہ دیکھ لو۔ نوازشریف نے خطاب کے دوران کہا کہ گوجرانوالہ کی عوام نے جو پیار اور محبت دی ہے اسکی کوئی مثال نہیں ملتی، اسے زندگی بھر نہیں بھولوں گا ،کارکنوں نے نوازشریف کو آئی لو یو کے نعرے لگائے جس پر انہوں نے بھی انہیں آئی لو یو ٹو کہا۔ نوازشریف نے کہا کہ عوام انشاء اللہ کل پھر مجھے وزیراعظم بنائیں گے لیکن میرا مقصد وزیراعظم بننا نہیں، عوامی مینڈیٹ کو روندنے نہیں دونگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان محض چند لوگوں کا ہی نہیں ہے۔ اس موقع پر وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی وجہ سے ملک میں ترقی ہوئی ہے ، ہر شخص سوال کرتاہے کہ پاکستان کے تعمیر و ترقی کی حفاظت کون کرے گا، پاکستان میں توانائی منصوبوں اور تعمیر و ترقی کی حفاظت میاں محمد نوازشریف کریں گے، ہم اپنے قائد کے پیچھے کھڑے ہیں ، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ نوازشریف کارکنوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں ، جو لوگوں کے دلوں میں راج کرتا ہے اسے کوئی نااہل نہیں کرسکتا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام کا کہنا تھا کہ گوجرنوالہ والوں نے آج تاریخ رقم کر دی، میں نے کبھی سیاسی تاریخ میں اس طرح عوام کی محبت اور جذبہ نہیں دیکھا ، عوام کا ایسا جذبہ اربوں روپے سے بھی نہیں خریدا جا سکتا، عوام کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں، عوام کے نہ نکلنے کی باتیں کرنے والے اپنا علاج کروائیں، نواز شریف جہاں جاتے ہیں وہاں عوام کا سمندر ہوتا ہے ، زعیم قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا فیصلہ ہے وہ نواز شریف کو وزیراعظم سمجھتے ہیں ،جو دلوں میں بس رہا ہے حکومت اسی کی ہے لیڈر کسی عہدے کا محتاج نہیں ہوتا ۔
نوازشریف/ گوجرانوالہ