جوڈیشل کمشن میں سابق سیکرٹری اشتیاق پر جرح مکمل، نجم سیٹھی سمیت 2 گواہ پرسوں طلب

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) انتخابات 2013ء میں دھاندلی کی تحقیقات بارے قائم جوڈیشل کمشن نے سابق سیکرٹری الیکشن کمشناشتیاق احمد کا بیان قلم بند کرلیا جبکہ فریقین وکلاء کی جرح بھی مکمل ہوگئی،کمشن نے مزید دو گواہوں سابق نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی اور صحافی اینکر حامد میر کو یکم جو ن بروز پیر کو طلب کرلیا۔ تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیر زادہ نے مذکورہ گواہوں پر جرح کی استدعا کی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے کے پی کے میں مبینہ دھاندلی سے متعلق درخواست کا جواب جمع کرانے بارے تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں مصروف ہے اس لئے وہ ڈائریکشن نہیں لے سکے جس پر کمشن نے انہیں جواب جمع کروانے کے لئے بھی پیر تک مہلت دے دی، جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل تین رکنی کمشن نے جمعہ کو سماعت کی تو تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے بتایا کہ ان کی سابق سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد پر جرح مکمل ہوگئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ خیبر پی کے میں دھاندلی کے الزامات سے متعلق پیپلز پارٹی کی درخواست پر بھی آئندہ سماعت پر ہی موقف پیش کریں گے کیونکہ پارٹی لیڈر شپ کی عدم دستیا بی کی وجہ سے وہ فی الحال ہدایات نہیں لے سکے۔ مسلم لیگ ق کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا کمشن میں موجود نہ تھے، مسلم لیگ ن کے وکیل شاہد حامد نے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن، اشتیاق احمد خان پر جرح کی تو الیکشن کمشن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل220 کے تحت تمام وفاقی اور صوبائی ایگزیکٹیو انتخابات میں الیکشن کمشن کی مدد اور تعاون کے پابند ہیں نگران حکومت نے ضرورت کے مطابق تعاون فراہم کیا ریٹرننگ آفیسرز کی رہنمائی کیلئے ایک ہینڈ بک چھاپی تھی جس میں پولنگ کے طریقہ کار سے رزلٹ تک کی ہدایات موجود تھیں انہوں نے وہ بک عدالت میں پیش کی، جس کے مطابق تمام ریٹرننگ آفیسرز کو الیکشن کمشن کی جانب سے ہدایت تھی کہ وہ تمام انتخابی مواد پولنگ بیگوں میں ڈال کر سرکاری خزانہ کے ضلعی دفتر جمع کروا دیں جبکہ فارم 14، 15 الیکشن کمشن کو بھجوائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمشن کے پاس اس ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کیلئے کوئی بندوبست نہ تھا۔ شاہد حامدنے اُن سے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ عام انتخابات میں ملک بھر میں 70 ہزار پولنگ سٹیشنز اور ایک لاکھ 93ہزار پولنگ بوتھ تھے تو انہوں نے بتایا کہ انھیں تعداد یاد نہیں۔ الیکشن کمشن نے عالمی و مقامی مبصرین کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ حاصل کر نے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کی تھی جو مبصرین کے تجربات اور مشاہدات پر مشتمل تھی، الیکشن کمشن نے اس رپورٹ کو اپنی ویب سائیٹ پر چڑھا دیا تھا اور پارلیمانی کمیٹی برائے اصلاحات کو بھی بھجوائی گئی تھی، اس کی 33 کاپیاں بنائی گئیں تھیں،انھوں نے بتایا کہ 1993ء کے انتخابات کو چھوڑ کر 1970 سے 2013 تک تمام انتخابات میںاضافی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تھے، سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پولنگ کے دوران یا تین دن تک پی او،آر او،انتخابی امیدورار کی جانب سے کوئی شکایات نہیں آئی، پریذائیڈنگ افسروں نے رزلٹ بناکر آر اوز کو دیا آر اوز نے وہ رزلٹ براہ راست الیکشن کمشن کو بھیجا،، الیکشن کمشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بھی ان پر جرح کی، جسکے بعد مزید سماعت پیر یکم جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔