ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کے دفتر سے جعلی اسناد کے مزید 30 ڈبے تحویل میں لے لئے

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ایف آئی نے ایگزیکٹ کے دفتر سے مزید جعلی اسناد کے 30 ڈبے اپنی تحویل میں لے لئے ہیں، جعلی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال ایف آئی اے کرائم سرکل کے دفتر میں کی جا رہی ہیں، یہ جعلی تعلیم اسناد 145 یونیورسٹیوں کی ہیں۔ ایف آئی اے ٹیم نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے ساتھ ایگزیکٹ کے دفتر کا دورہ کیا، ٹیم نے مزید دستاویزات کا جائزہ لیا اور شواہد اکٹھے کئے۔ ایگزیکٹ دفتر سے برآمد ہونے والے سامان اور جعلی ڈگریوں کو بس کے ذریعے ایف آئی اے آفس منتقل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایگزیکٹ کے 34 اکائونٹس کے اوپننگ فارم، دستخط کارڈ اور اکائونٹس میں موجود رقم کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایگزیکٹ کے چونتیس میں چار اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ ثابت نہیں ہو سکی۔ نجی ٹی وی نے ایف بی آر کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کمرشل بینکنگ سرکل نے کمپنی کے چار اکاونٹس کو منی لانڈرنگ کے حوالے سے کلیئر قرار دیدیا یہ چاروں اکائونٹس ایگزیکٹ کے نام پر ایک ہی بینک کی تین مختلف برانچز میں کھولی گئی تھیں جن میں دس روپے سے لے کر دس لاکھ روپے تک کی رقم موجود ہے۔ تاہم اکائونٹس کے ریکارڈ سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ان اکاونٹس سے کبھی رقم بیرون ملک منتقل نہیں کی گئی۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ایگزیکٹ کے مالک شعیب احمد شیخ کے خلاف درج مقدمے میں منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ تین اور چار عائد کی گئیں اور الزام کو ثابت کرنے کیلئے دیگر تیس اکاؤنٹس کے ریکارڈ کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے کہا ہے کہ ایگزیکٹ کے معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطوں کے لئے وزارت داخلہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ ایگزیکٹ کے معاملے پر وزارت داخلہ نے تعاون مانگا ہے۔ جو ہم فراہم کر رہے ہیں۔ ایگزیکٹ کے معاملے پر تحقیقات جاری ہے‘ اس میں کئی امریکی ادارے اور یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں اس معاملے پر وزارت داخلہ نے امریکی حکام سے رابطے کے لئے تعاون مانگا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کے 40 کمپیوٹرز اور دو سرورز کی حتمی فرانزک رپورٹ تیار کرلی ہے۔ ایس ای سی پی اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ پروموشن بورڈ کی رپورٹس ایف آئی اے کے پاس موجود ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق نئے پہلو پر کام کررہے ہیں۔ ٹھوس ثبوت ملا تو مقدمہ درج کریں گے۔ اسلام آباد میں مقدمہ درج ہونے کی صورت میں شعیب شیخ کو اسلام آباد لاکر ریمانڈ لیں گے۔ نیا مقدمہ درج نہ کیا تو حاصل کردہ ثبوت کراچی ایف آئی اے کو دیں گے۔ ایگزیکٹ کے 7 ڈگری ہولڈرز نے ایف آئی اے سے رابطہ کرلیا۔ ان ڈگری ہولڈرز میں بیرون ملک مقیم پاکستانی شامل ہیں۔ کراچی کی مقامی عدالت نے ایگزیکٹ کے سی ای او شعیب شیخ اور وقاص عتیق کو وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دیدی۔ ایگزیکٹ کے سی ای او شعیب شیخ کے وکلا نے درخواست دائر کی تھی کہ شعیب شیخ کو اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے جبکہ وکلا کو بھی مشاورت کیلئے ملاقات کرنی ہے۔ نجی ٹی وی میں ایگزیکٹ کے عہدیداروں کو ڈائریکٹر اور شیئر ہولڈر بنانے کیخلاف وفاق نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ میں وفاقی وزارت داخلہ نے درخواست دائر کی ہے کہ2013ء میں ایک نجی ٹی وی چینل نے شعیب شیخ، اسکی اہلیہ عائشہ شیخ، سرور بشیر اور وقاص عتیق کو شیئر ہولڈر بنایا تھا لیکن سکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے پر وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں نام کو خارج کرنے کا حکم دیا تھا جس پر نجی ٹی وی نے حکم امتناعی حاصل کرلیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ کی شفافیت کے معاملے پر سوال اٹھایا ہے۔ حکم امتناعی ختم کرکے انکے نام شیئر ہولڈرز کی لسٹ سے نکالے جائیں۔ نجی ٹی وی کو5 جون تک نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔