”مرجائیں گے یا مقصد میں کامیاب ہوں گے“ مرسی کے حامیوں کا دھرنا ختم کرنے سے انکار

قاہرہ (اے ایف پی + اے پی پی+ نیٹ نیوز+ رائٹر) معزول صدر مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ مصری فورسز کی طرف سے شدید خونریزی کے باوجود احتجاجی پروگرام جاری رکھیں گے۔ اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد نے کہا کہ ایک طرف مظاہرین میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے تو دوسری طرف ان کے اندر عزم مزید مستحکم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مر جائےں گے یا اپنے مقصد میں کامیاب ہونگے۔ اگر ہم مارے گئے تو اپنے خالق کے ساتھ اس احساس کے ساتھ جا ملیں گے کہ ہم نے منصفانہ مقصد کیلئے جان دی، ادھر مصر میں دو روز سے جاری پرتشدد مظاہروں میں جاں بحق افراد کی تعداد 180 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہزاروں زخمی ہو گئے، محمد مرسی کے حامیوں نے معزول صدر کی بحالی تک سڑکوں پر رہنے کا اعلان کیا ہے۔ مظاہروں نے قاہرہ سمیت مصر کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، قاہرہ اور سکندریہ میں صورتحال سب سے زیادہ خراب رہی جہاں معزول صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں کئی علاقے میدان جنگ بن گئے ہےں۔ مصر ی حکومت کی طرف سے طاقت کے استعمال کے باوجود قاہرہ میں معزول صدر مرسی کے حامیوں کا دھرنا جاری ہے۔ مظاہرین نے اپنے کیمپ کے اردگرد مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں، ہزاروں افراد کی ہلاکت اور حکومتی تنبیہ کے باوجود مظاہرین نے اپنے کیمپ کے اردگرد مزید رکاوٹیں کھڑی کر دیں ہیں اور عہد کیا کہ وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔ امریکہ نے مصر میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مصرمیں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اثرات مستقبل پر ضرور پڑیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ مصری حکومت پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کے اظہار رائے اور ان کے پرامن مظاہروں کے حق کو تسلیم کرے۔ تشدد سے نہ صرف مصر میں جمہوریت کے استحکام کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس سے خطہ کے استحکام پر بھی منفی اثرات پڑیں گے۔ جان کیری نے کہا کہ امریکہ کے خدشات سے مصر کے عبوری نائب وزیراعظم محمد البردای اور عبوری نائب وزیر خارجہ نبیل فہمی کو آگاہ کر دیا ہے۔ یورپی یونین نے مصری دارالحکومت قاہرہ میں مظاہرین کے خلاف کی جانے والی سکےورٹی فورسز کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے ایک بار پھر سیاسی قیدیوں بشمول معزول صدر محمد مرسی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سویلین حکومت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے فریقین کو ضبط و تحمل کی تلقین کی۔ بی بی سی کے مطابق مصر کی حکومت کی تنبیہ کے باوجود معزول صدر مرسی کے حامیوں کا دھرنا جاری ہے۔ مظاہرین نے اپنے کیمپ کے اردگرد مزید رکاوٹیں کھڑی کر دیں، جھڑپوں میں کم از کم 65 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ مظاہرین نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔ اخوان المسلمین کے رہنماو¿ں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس سے قبل مصری وزیرِ داخلہ نے معزول صدر مرسی کے حامیوں کو تنبیہ کی تھی کہ ان کے دھرنے کو ’جلد ہی‘ منتشر کر دیا جائے گا۔ اخوان المسلمین کے ترجمان جہاد الحداد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہزاروں کی تعداد میں مرد، خواتین اور بچوں نے رابعہ العدویہ مسجد کے قریب پرامن احتجاج میں حصہ لیا۔صدر مرسی کے ساتھ جو بھی سلوک ہو اس سے بالاتر ہو کر ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ ہماری تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کو فوجی بغاوت سے پیدا ہونے والے خطرات اور ان کی جابرانہ حکمرانی کا اندازہ ہو رہا ہے۔‘ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے مصری حکام سے شہریوں کے پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے مصری فوج کے سربراہ جنرل السیسی سے فون پر بات کی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس انتہائی اشتعال انگیز ماحول میں مصری حکام کا یہ اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے کہ وہ عوام کے پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کے حقوق کا احترام کرے۔‘ جامعہ الاظہر کے امام نے ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ عبوری حکومت کے نائب صدر محمد البرادی نے کہا ہے کہ شدید طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔ اخوان المسلمین نے ان ہلاکتوں کا الزام فوج پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجیوں نے گولی مار کر مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔ حکومت نے اس کی تردید کی اور کہا کہ سکیورٹی افواج نے گولیاں نہیں بلکہ صرف آنسو گیس استعمال کی ہے۔ قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق زخمیوں کے زخموں کی شدت اور نوعیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ بات غلط نظر آتی ہے۔آنسو گیس، شاٹ گن کے کارتوس اور گولیوں سمیت جھڑپوں میں ہر چیز استعمال کی گئی۔ شمالی قاہرہ میں اخوان المسلمین کے حامیوں کے ایک ماہ سے جاری دھرنے کو توڑنے کی کوشش میں تصادم شروع ہوا۔ اخوان المسلمین کے ترجمان جہاد الحداد نے سکیورٹی فورسز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ زخمی کرنے کے لئے نہیں بلکہ مارنے کے لئے فائر کرتے ہیں۔‘ ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والے 70 فیصد افراد پر براہ راست گولیاں چلائی گئیں، زیادہ تر متاثرین کو چھتوں سے نشانہ باندھ کر براہ راست سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں ہیں۔ اخوان المسلمین کے سینیئر رہنما سعدالحسینی نے رائٹر کو بتایا کہ یہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے مسجد کا علاقہ خالی کرانے کی کوشش تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں پانچ گھنٹوں تک جوانوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کرتا رہا لیکن نہ کر سکا۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خون کی قربانی دی ہے پسپا نہیں ہونا چاہتے۔‘ محمد مرسی کے حامی فوج کے نئے کردار پر اور بالخصوص جنرل عبدالفتح السیسی پر برہم ہیں جو مصریوں کو قتل کر رہے ہیں۔ مصر میں فوج کی جانب سے نامزد وزیر داخلہ محمد ابراہیم نے سرکاری ٹی وی چینل الاہرام سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک ماہ سے جاری مرسی کے حامیوں کے دھرنے کو جلد قانونی طریقے سے ختم کیا جائے گا۔ مصر کی صورت حال کے پیش نظر اقوامِ متحدہ نے مصری فوج سے محمد مرسی کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ نیوز ایجنسی ”سینا“ کے مطابق مصری سکیورٹی فورسز نے سینائی میں آپریشن کے دوران 10مسلح افراد کو ہلاک اور 20کو گرفتار کر لیا ہے۔یورپی خارجہ پالیسی کی چیف کیتھرین آسٹن مذاکرات کے لئے مصر آ رہی ہیں۔ مصر کے ایوان صدر نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔