کشمیر پر ثالثی کو تیار ہیں، پاکستان میں دہشت گردوں کی موجودگی تشویشناک ہے: فرانس

نئی دہلی(آن لائن+اے این این) فرانس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام مسائل گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی وزیر دفاع جین ویسلی ڈرین نے کہا کہ ممبئی حملوں کے سرغنہ سمیت متعدد دہشت گرد آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ پاکستان میں جنگجو تنظیموں کی موجودگی پریشان کن ہے تاہم انہوں نے کہا پاکستان اور بھارت دو اہم پڑوسی ممالک ہیں۔ فرانس ان دونوں ممالک کے درمیاں تمام تنازعات اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کئے جانے کا خواہاں جبکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے پاکستان اوربھارت پر زور دیا کہ وہ تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریںکیونکہ بات چیت ہی تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے پاکستان بھارت تعلقات، مسئلہ کشمیر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا پاکستان اوربھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر کو پر تشدد کارروائیوں کے جواز کے بطور پیش کیا جاتا ہے۔ فرانس ہمیشہ پاکستان اوربھارت کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیونکہ بات چیت ہی تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے دونوں ملکوں پر گفت و شنید کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے الزام عائدکیا کہ پاکستان میں جنگجوﺅں کی موجودگی خطرناک مسئلہ ہے پاکستان میں ہونیوالی پیشرفت پر ہم اپنے تحفظات کا اظہار کیوں نہ کریں؟ ہر کوئی جانتا ہے کہ دہشت گردوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک اس صورتحال کا فائدہ اٹھاکر اپنی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں اس ملک میں جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، دہشت گردوں کی موجودگی فکرمندی کا باعث ہے۔ ممبئی حملوں کے سرغنہ سمیت متعدد دہشت گرد آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔