سندھ اسمبلی: کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل منظور‘ دولہا ‘ والدین‘ سرپرستوں کو سزا ملے گی

سندھ اسمبلی: کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل منظور‘ دولہا ‘ والدین‘ سرپرستوں کو سزا ملے گی

کراچی (وقائع نگار) سندھ اسمبلی نے  کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر شادیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سال تک قید با مشقت کی سزا دی جائے گی لیکن یہ سزا دو سال سے کم نہیں ہو گی۔ یہ ’’سندھ چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ بل 2014ء ‘‘ کہلائے گا، جس کے تحت شادی کے لیے مرد اور عورت کی کم از کم عمر 18 سال ہو گی۔  وزیر سماجی بہبود اور ترقی نسواں روبینہ قائم خانی نے بل پیش کیا تھا۔ بل کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ شادی کرنے والے دولہا، ایسی شادی کے لیے سہولتیں مہیا کرنے اور انتظامات کرنے والوں، ایسی شادی کرانے والے والدین یا سرپرستوں کو تین سال تک قید با مشقت کی سزا دی جائے گی۔ اس بل کی منظوری سے چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ ایکٹ 1929ء کا سندھ میں اطلاق منسوخ ہو گیا ہے۔ بل کی روحِ رواں شرمیلا فاروقی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اسے ایک ’تاریخی‘ قانون قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل کم عمری کی شادی پر پابندی کا قانون 1929 میں بنایا گیا تھا جس کے تحت اس اقدام پر ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا تھا۔ اس سوال پر کہ کیا شادی کے لیے کم از کم عمر 18 برس مقرر کرنے سے قبل اسلامی نظریہ کونسل سے مشاورت کی گئی، شرمیلا نے بتایا کہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ قبل ازیںمحکمہ تعلیم کی خراب کارکردگی پر تحریک التوا مسترد کئے جانے پر ایوان میں گرما گرمی ہوئی اپوزیشن نے واک آئوٹ کیا۔ وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے توجہ دلائو نوٹس  پر خطاب میں کہا کہ گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے سندھ کے عوام پریشان ہیں۔ وفاق  کے سپرمین عابد شیر علی نے اندرون سندھ بجلی کاٹنا شروع کر دی ہے۔