دہشت گردی کے خطرات پنجاب بھر میں غیرملکی تعلیمی اداروں، جیلوں، دفاتر کی سکیورٹی سخت

لاہور (سٹاف رپورٹر+ آن لائن) پنجاب حکومت نے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کی رپورٹ پر دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر لاہور سمیت صوبے کے بڑے شہروں میں قائم ملکی و غیر ملکی تعلیمی اداروں، انسانی حقوق کے مراکز، جیلوں، سرکاری دفاتر اور دیگر اہم حساس مقامات کی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کی ہدایت کر دی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو بعض اہم حساس اداروں اور ایجنسیز نے اہم مقامات پر دہشت گردی کے ممکنہ واقعات کی رپورٹس دی ہیں جن کی روشنی میں صوبے کے تمام ریجنل پولیس افسر، کمشنرز، ڈی پی اوز اور ڈی سی اوزکو اپنے اپنے اضلاع کی پولیس لائنز، جیلوں، سرکاری دفاتر، ملکی و غیر ملکی این جی اوز کے دفاتر، سرکاری افسروں کی رہائشگاہوں اور دیگر مقامات کی سکیورٹی کے انتظامات سخت اور آنیوالوں کی میٹل ڈیٹکٹر اور واک تھرو گیٹ لگا کر تلاشی لی جائے۔ رپورٹ کے مطابق اہم سرکاری شخصیات کو اغوا کرنے اور مئی میں پنجاب میں دہشت گردی کے خدشات ہیں۔ حکومتی ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک وفاقی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پنجاب کے غیر ملکی امداد سے چلنے والے تمام تعلیمی اداروں میں دہشت گردی کے خدشات ہیں۔ دریں اثناء پنجاب بھر کی جیلوں میں بھی سکیورٹی سخت کردی گئی۔ سی سی کیمروں سے روزانہ جیلوں کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے جبکہ خطرناک قیدیوں کو محفوظ جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔